حضرت سلیمان
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور نبی تھے ۔آپ
10ویں صدی قبل مسیح میں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئےاور تقریباً 930 قبل مسیح میں آپ
نےوفات پائی ۔ 1 آپ
کو حکومت وخلافت کے ساتھ منصب نبوت بھی عطا ہواتھا ۔ چنانچہ موجودہ تورات میں سفرا لامثال ، سفر الجامعۃ (واعظ) ، نشید الانشاد (غزل الغزالات) اور سفر الحکمۃکو ا ٓپ
کی تصنیفات قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی آپ
کی طرف کچھ کتابیں منصوب ہیں جو کہ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ضائع ہو گئیں ہیں ۔ 2 بعض اہل کتاب ”سفر الحکمۃ“ کو قانونی اور معتبر تسلیم نہیں کرتے اسی لیے موجودہ کتابِ مقدس کے بعض نسخوں میں یہ نہیں پایا جاتا ۔ جیسا کہ یہ باب کتاب مقدس کےاردو ترجمے بشمول جو کہ بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی ، دہلی ، انڈیا سے 2005 میں چھپا ہے ، اس میں بھی شامل نہیں ہے ۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ آپ
کی بیان کردہ بشارات نہ صرف معتبر بلکہ وحی الٰہی سے ماخوذ بشارات ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اس بات کی تصریح ہےکہ آپ
نبی تھے اور آپ
پر وحی نازل ہوتی تھی ۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ... 1633
(اے حبیب!) بیشک ہم نے آپکی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (
) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ۔ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب
اور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (
) کی طرف (بھی) وحی فرمائی ۔ ۔ ۔
حضرت سلیمان
، نشید الأنشاد (غزل الغزالات) میں رسول اللہ
کے اوصاف اور آپ
کی آمد سے متعلق بشارت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:
حبيبي أبيض وأحمر ، معلم بين ربوة. رأسه ذهب إبريز ، قصصه مسترسلة حالكة كالغراب. عيناه كالحمام على مجاري المياه ، مغسولتان باللبن ، جالستان في وقبيهما ۔ خداه كخميلة الطيب وأتلام رياحين ذكية ، شفتاه سوسن تقطران مرا مائعا. يداه حلقتان من ذهب ، مرصعتان بالزبرجد ، بطنه عاج أبيض مغلف بالياقوت الأزرق. ساقاه عمودا رخام ، مؤسستان على قاعدتين من إبريز ، طلعته كلبنان ، فتى كالأرز. حلقه حلاوة وكله مشتهيات. هذا حبيبي ، وهذا خليلي ، يا بنات أورشليم. 4
میرا محبوب سفید و سرخ ہے ، رفعتوں کے درمیان نمایاں نشانِ راہ ہے ۔ اس کا سر خالص سونے جیسا ہے ، اس کے بال گھنے ، لہراتے ہوئے ، کوّے کی طرح سیاہ ہیں ۔ اس کی آنکھیں پانی کی نہروں پر بیٹھی ہوئی فاختاؤں کی مانند ہیں ، جودودھ سے دھلی ہوئی ،اپنی جگہوں پر (جواہرات کی طرح ) جَڑی گئی ہو ۔ اس کے گال خوشبودار بلسان کی کیاریوں اور ریحان کی خوشبودار قطاروں کی مانند ہیں ۔ اس کے ہونٹ سوسن کے پھول کی مانند ہیں جن سے مُر ٹپک رہا ہو ۔ اس کے ہاتھ سونے کے کڑوں کی مانند ہیں جو زمرد سے مرصع ہو ۔ اس کا بدن ہاتھی دانت سا سفید ہے جو نیلم کے جواہرات سے مزین ہو ۔اس کی ٹانگیں سنگِ مرمر کے ستون کی مانند ہیں جو خالص سونے کی پایوں پر قائم ہو ۔ اس کی صورت (وضع قطع) لبنان (کے پہاڑوں) کی مانند ہے ، دیودار (درخت) کی مانند بلند وباوقار نوجوان ہے ۔اس کا کلام شیریں ہے ، وہ سراپا عشق انگیز ہے ۔یہ ہے میرا حبیب ، یہ ہے میرا خلیل ، اے یروشلم کی بیٹیوں!
حضرت سلیمان
کی یہ بشارت اپنے کامل اور حقیقی مصداق کے اعتبار سے رسولِ اکرم
کی ذاتِ اقدس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ ذیل میں دلائل و شواہد کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی جاتی ہے کہ اس پیش گوئی کی تمام نمایاں علامات نبی کریم
ہی کی مبارک ہستی میں جلوہ گر ہوئیں ، اور تاریخِ انسانیت نے اس بشارت کی عملی تعبیر آپ
کی بعثتِ مبارکہ کی صورت میں دیکھی ۔
اس عبارت کی آخری آیت میں اگرچہ مترجمین نے" مشتہیات" کا "سراپا عشق انگیز ہے" ترجمہ کیا ہے ۔ تاہم اصل عبرانی زبان میں یہ لفظ"محمدیم" ہے جو صراحتاً رسول اللہ
کی ذات مقدسہ پر دلالت کر تاہے ۔ چنانچہ عبرانی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
חִכּוֹ֙ מַֽמְתַקִּ֔ים וְכֻלּ֖וֹ מַחֲמַדִּ֑ים זֶ֤ה דוֹדִי֙ וְזֶ֣ה רֵעִ֔י בְּנ֖וֹת יְרוּשָׁלָֽ͏ִם. 5
"هكو ممتكيم وكلو محمديم زه دودي وزه ريعي بنوث يوروشلايم". 6
Hikko mamtaqqim we-khullo Mahamaddim zeh dodi we-zeh re’I benoth-yerushalaym. 7
| חִ | כּ | וֹ | מַ | מְ | תַ | קִּ | י | ם | וְ | כֻ | לּ | וֹ | מַ | חֲ | מַ | דִּ | י | ם | זֶ | ה | דֹ | ו | דִ | י | וְ | זֶ | ה | רֵ | עִ | י |
| هِ | كُ | وُ | مَ | مْ | تَ | كِ | يْ | مْ | وْ | كُ | لُ | وُ | مَ | حَ | مَ | دِ | يْ | مْ | زِ | ه | دُ | وْ | دِ | يْ | وْ | زِ | ه | رِي | عِ | يْ |
اس آیت میں لفظ ”محمدیم“ واضح طور پر نبی عربی حضرت محمد
کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ اس کے آخر میں موجود "یم" عبرانی زبان میں تعظیم اور بڑائی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ 8 جیسا کہ سفر پیدائش میں لفظ افرایم 9 اور سفر تواریخ اول میں"سحریم" 10 میں بھی نظر آتا ہے ۔اور لفظ محمد عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں "حمد و ستائش کے لائق شخص " کے معنی رکھتا ہے ۔ اسی تناظر میں آیت کا مفہوم یوں ہوگا: اس کا کلام بہترین اور شیریں کلام ہے ، یہی تعریف اور بڑائی والے محمد ہیں ، یہ میرے حبیب اور خلیل ہیں ۔ 11
عبد الخالق شریبہ لکھتے ہیں کہ لفظ محمدیم (Mahamaddim) سے اگر "یم" (im) ہٹا دیا جائے تو وہی حروف رہ جاتے ہیں جو عربی لفظ محمد میں پائے جاتے ہیں ۔ اس کا ترجمہ کبھی حمد و ثناء کے طور پر ، کبھی اشتہاء یعنی محبوب یا پسندیدہ چیز کے مفہوم میں ، یا اس کے قریب دیگر معانی میں کیا جا تاہے ۔ اس اعتبار سے لفظ محمدیم کے دو ممکنہ معنی ہو سکتے ہیں: پہلا یہ کہ یہ مشتہی (محبوب) عظیم ہے ، یہ میرا حبیب اور خلیل ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ محمد العظيم (بڑائی والے) ہیں ، یہ میرے حبیب اور خلیل ہیں ۔ تاہم ، لفظ "یم" کا استعمال جو تعظیم و تعریف کے لیے ہوا ہے ، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہاں محمدیم کوئی صفت نہیں بلکہ شخصی نام کے طور پر وارد ہے ۔ لہٰذا دوسرا معنی یعنی "محمد العظيم" زیادہ مناسب اور درست معلوم ہوتا ہے ۔ 12
اور اگر اس آیت میں محمدیم سے شخصی نام (محمد
) کے بجائے معنی وصفی ( مشتہی) مراد لیا جائے تو اس صورت میں بھی اس کا مصداق رسول اللہ
ہی قرار پاتے ہیں ۔ کیونکہ یہی لفظ سفر حجی میں آیا ہے جو رسول اللہ
کی ذات طیبہ پر دلالت کرتا ہے ۔چنانچہ حجی فرماتے ہیں:
لأنه هكذا قال رب الجنود: هي مرة ، بعد قليل ، فأزلزل السماوات والأرض والبحر واليابسة ، وأزلزل كل الأمم. ويأتي مشتهى كل الأمم ، فأملأ هذا البيت مجدا ، قال رب الجنود. 13
کیونکہ خداوند فرماتا ہے:ایک بار ، کچھ دیر بعد ، میں آسمانوں ، زمین ، سمندر اور خشکی کو ہلا دوں گا ، اور میں سب قوموں کو ہلا دوں گا ۔ اورتمام قوموں کا پسندیدہ آئے گا ، پھر میں اس گھر کو جلال سے بھر دوں گا ۔ یہ فرمایا خداوند نے ۔
عبد الاحد داؤد (سابق ریورنڈ فادر پروفیسر ڈیوڈ بنجمن کلدانی) لکھتے ہیں کہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو اصل عبرانی متن میں یہ جملہ (يأتي مشتهى كل الأمم) یوں ہے:
(في يافو حِمْدات كُول هاجُوييم ) ve yavu himdath kol haggoyim.
اور اس کا لفظی معنی یہ ہوگا: اور تمام قوموں کا حِمْدَاا ٓئے گا ۔ عبرانی زبان میں بھی آخری حرف نسبت اور اضافت کی وجہ سے بدلتا رہتا ہے ۔ حالانکہ حمدات اور حمدا ایک ہی لفظ ہے جو قدیم عبرانی یا آرامی لفظ حِمْدْسے ماخوذ ہے ۔ اور حِمْدْعبرانی زبان میں مجموعی طور پر بڑی خواہش ، پسندیدہ ، تعریف یا تمنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ احکام عشرہ میں ہے:
(لو تاحمود إش رِئیخا) Lo tahmod ish reïkha
تم اپنے پڑوسی کی بیوی کی تمنا نہ کرو ۔
پھر عبرانی زبان میں اسی لفظ حِمْدْسے حِمِیْدابھی مشتق ہے ، جس کا مطلب ہے تعریف اور ستائش کے لائق ۔اور اس میں شک نہیں کہ مطلوب ومرغوب اور پسندیدہ چیز ہی سب سے زیادہ ستائش اور تعریف کےلائق ہوتی ہے ۔ چاہے کوئی بھی معنی مراد لیا جائے لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت اور فیصلہ کن امر ہے کہ عبرانی لفظ حِمْدَایا حِمِیْدا دراصل عربی لفظ أحمد کی شکل ہے جو اسی عبرانی لفظ کے معنی ومفہوم پر دلالت کرتاہے ۔ یہی"احمد" رسول اللہ
کا اسم مبارک ہے اور اسی لفظ سے تورات وانجیل میں آپ
سے متعلق بشارات وارد ہیں ۔ 14 جبکہ قرآن کریم میں واشگاف الفاظ میں آیاہے کہ حضرت عیسیٰ
نے بنی اسرائیل کےسامنے احمد
نام لے کر بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ میرے بعد احمد
نبی بن کر آئیں گے:
...يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ... 615
۔ ۔ ۔اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم) کی (آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام احمد (
) ہے ۔ ۔ ۔
ان آیات کی ابتدا میں سلیمان نے فرمایا: معلم بين ربوة ۔اگرچہ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ رفعتوں کے درمیان واضح علامت ہے ، تاہم بائبل کے کاتبین اور شارحین نے لفظ ربوۃ کا ترجمہ 10 سے ہزار سے کیا گیاہے ۔چنانچہ اردو مترجمین لکھتے ہیں کہ وہ 10 ہزار میں ممتاز ہے ۔ 16 کنگ جیمز ورژن (KJV) میں بھی (Ten Thousand) کا ترجمہ پایا جاتا ہے ۔ 17 جبکہ عربی کے دیگر تراجم میں بھی 10 ہزار کا لفظ موجود ہے ۔ 18 اور یہ درحقیقت فتحِ مکہ کے اس عظیم واقعے کی طرف اشارہ ہے ، جب رسول اللہ
10 ہزار جانثار صحابہ کرام
کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور مکہ کو فتح کیا ۔ 19
کتاب مقدس کے مطابق حضرت سلیمان
نے محمدیم کے فوراً بعد فرمایا: زه دودي (זֶה דֹודִי) یعنی یہ میرا حبیب ، دوست ہے ۔اگرچہ عبرانی لفظ دودي عام طور پر دوست اور محبوب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، تاہم یہ لفظ خصوصیت کے ساتھ چچا یا باپ کے بھائی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ عبرانی اور انگریزی لغت میں اس لفظ کے مندرجہ ذیل معانی ذکر ہیں:
A friend, A father’s brother, or uncle by the father’s side. 20
دوست ، باپ کا بھائی یا باپ کی طرف سے چچا ۔
چنانچہ حضرت سلیمان لفظ
دودی (דֹודִי)کے ذریعے محمدیم (حضرت محمد
) سے اپنے نسبی تعلق کا اظہار کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کو بخوبی علم ہوجائے کہ محمدیم (
)ان کے چچیرے بھائیوں میں سے ہیں ، بنی اسرائیل میں سے نہیں؛ کیونکہ حضرت سلیمان
بنی اسرائیل میں سے تھےاور بنی اسماعیل حضرت سلیمان
کے چچیرے بھائی ہیں ۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیش گوئی رسول اللہ
کے علاوہ دنیا میں کسی اور ذات کے حق میں ہوہی نہیں سکتی ۔ 21
ان آیات میں محمدیم (نبی آخرالزمان
) کے جن اوصاف کا بیان ہے ، وہ تمام اوصاف پوری طرح ذاتِ محمدی
پر منطبق ہوتے ہیں ۔ یہ بات محض دعوے کی حد تک نہیں بلکہ احادیثِ صحیحہ اس حقیقت کو روشن دلائل کے ساتھ ثابت کرتی ہیں ۔ ذیل میں انہی اوصاف کو احادیثِ نبویہ کی روشنی میں واضح کیا جاتا ہے:
فرماتے ہیں کہ حضور
کا رنگ سفیدی اور سرخی کا حسین امتزاج تھا ۔ 22 اسی طرح حضرت ابی امامہ
فرماتے ہیں کہ حضور
کے سفید رنگ پر سرخی نمایاں تھی ۔ 23 اور سرخی و سفیدی کا امتزاج دنیوی نقطہ نظر سے حسین ترین رنگ تسلیم کیا جاتاہے ۔ 24
فرماتے ہیں کہ نبی کریم
کے سرِ مبارک پر بال گھنے اور قدرے لہراتے ہوئے تھے ۔ 25اسی حوالے سے حضرت انس
فرماتے ہیں کہ آپ
کے بال درمیانہ تھے ، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے تھے ۔ 26 اور حضرت ابو ہریرہ
فر ماتے ہیں کہ آپ
کے بال شدید کالے تھے ۔ 27 یہی رنگ ام المؤمنین حضرت عائشہ
، 28اور ام معبد
بھی بیان فرماتی ہیں ۔ 29
کی آنکھوں کی غیر معمولی صفائی ، روشن چمک اور اپنی گہرائی میں خوبصورتی کے ساتھ جڑی ہونے کی کیفیت کو بیان کرتی ہے ۔ احادیث شریفہ میں آپ
کی آنکھوں کا وصف أدعج العينين وارد ہے ، جو حضرت عمر
، 30 حضرت علی
، 31 حضرت ابو امامہ
، 32 حضرت ابن مسعود
، 33 اور حضرت ام معبد
34 سے مروی ہے ۔ اور الدَّعَجسے مراد آنکھ کی سیاہی کا انتہائی گہرا ہونا اور سفیدی کا نہایت روشن و درخشاں ہونا ہے ۔ 35 اسی وصف کو حضرت جابر
أشكل العين (جس آنکھ کی سیاہی نمایاں اور پرکشش ہو) کے الفاظ ذکر کر کے بیان فرماتے ہیں ۔ 36 اور امام حلبی
فرماتے ہیں کہ الشکلۃ وہی صفت ہے جس کا ذکر کتب سابقہ میں وارد ہے ۔ 37
کے گال مبارک کی شادابی اور خوش رنگی کو اجاگر کرتی ہے ۔حضرت ہند بن ابی ہالہ
سہل الخدین سے آپ
کے گال کا وصف بیان کرتےہیں ۔ 38 اور سہل الخدین کا مطلب ہے کہ گال ہموار ہوں ، ان میں کوئی ابھار یا گہرائی نہ ہو ۔ 39 امام مناوی فرماتےہیں کہ رسول اللہ
کے گالوں میں نہ کوئی ابھار تھا اور نہ کوئی اونچائی ، یعنی آپ
کے گال نرم ، ملائم اور قدرے گوشت والے تھے ۔ 40 جبکہ حضرت ابو ہریرہ
فرماتے ہیں کہ آپ
کے گال سفید چمک دار تھے ۔ 41 مزید حضرت ابو بکر
بھی فرماتے ہیں کہ آپ
کے گال صاف شفاف روشن تھے ۔ 42
کے ہونٹ گلاب کی طرح سرخ ، نرم اور خوبصورت تھے ، اورنمی ایسی تھی کہ نہ زیادہ خشک اور نہ بہت تر ۔ حضرت عائشہ
فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
کےہونٹ مبارک سب سے خوبصورت ، نرم اور لطافت والےتھا 43 اور حضرت جابر ضلیع الفم
سے آپ
کے منہ مبارک کا وصف بیان کرتے ہیں ۔ 44 امام سیوطی
اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ
شاندار منہ والے تھے ۔ آپ
کے ہونٹوں میں جھریاں کم ، نہ زیادہ تر اور نہ خشک ، نرم ونازک اور حسن کامل شامل تھا ۔ 45
کے ہاتھوں کی جمالیاتی صفات کو بیان کرتی ہے ، نہ کہ لفظی معنوں میں حقیقی زیورات کی نشاندہی ۔ حضرت انس
فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو کسی ریشم کو چھوا اور نہ دیباج کو ۔ 46 حضرت ابو جحیفہ
فرماتے ہیں کہ میں نے آپ
کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے پر رکھا ، آپ
کا ہاتھ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ خوشبو دار تھا ۔ 47
کے جسمانی حسن اور جمال کو نمایاں کرتا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ
فرماتے ہیں کہ آپ
کا جسم مبارک نہایت سفید تھا ۔ 48 اور حضرت محرش کعبی
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
نے رات کو جعرانہ سے عمرہ کیا ، تو میں نے آپ
کی پشت کو دیکھا ، جو بالکل چاندی کی سلائی کے مانند روشن اور صاف تھی ۔ 49
کے پیراور ٹانگوں کی مضبوطی ، جمال اور سفیدی کی تصویر کشی کر رہا ہے ۔حضرت ابوہریرہ
، 50 اور انس
نے اس کو ضخم الساقین (مضبوط ٹانگوں والے) سے تعبیر کیا ہے ۔ 51 حضرت ابو جحیفہ
فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دورانِ سفر آپ
خیمے سے وضو کے لیے نکلے ، ایسا لگ رہاتھا جیساکہ میں آج آپ
کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ 52 ایک روایت میں ہے کہ میں آپ
کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہاہوں ۔ 53
کے خوشنما ، اور بلند قد وقامت کی طرف اشارہ ہے ۔ حضرت انس
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
میانہ قد تھے ، آپ
نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد ، خوشنما اور خوبصورت جسم والے تھے ۔ 54 اور حضرت ابوہریرہ
فرماتے ہیں کہ آپ
کا قد لمبائی کی طرف زیادہ تھا ۔ 55 اور حضرت ہند بن ابی ہالہ
فرماتے ہیں کہ آپ
درمیانہ قد سے کچھ بلند تھے ۔ 56
کے کلام اور گفتگو سے متعلق ہے ۔ یعنی رسول اللہ
کاکلام شیریں اور بولنے کا انداز نرم اور دلنشین ہے ۔ حضرت ام معبد
فرماتی ہیں کہ آپ
کی آواز میں صحل تھا ۔ 57 یعنی آپ
کی آواز ایسی نرم تھی جس میں تیزی نہیں ہو ۔ 58 اور حضرت جبیر بن مطعم
فرماتے ہیں کہ آپ
کی آواز خوبصور ت او ر دلنشین تھی ۔ 59 حضرت عائشہ
فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
اس قدر پُر سکون انداز میں گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی گننے والا اسے (آپ
کے بیان کردہ الفاظ) گِنتا تو گِن سکتا تھا ۔ 60 اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ
کے نطق اور کلام سے متعلق فرماتا ہے کہ وہ (آپ
شرعی معاملات کے حوالہ سے)اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے ،اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے ۔ 61 اور وحی الہی دنیا کا بہترین ، دلنشین ، حسین اور شیریں کلام ہے ۔یہ وہ دس اوصافِ جمیلہ ہیں جنہیں براہِ راست حضور
کے جسمِ مبارک کا مشاہدہ کرنے والے صحابہ کرام
نے ، کتابِ مقدس میں موجود حضرت سلیمان
کی اس بشارت کو جانے اور پڑھے بغیر ، صرف آپ
کو دیکھ کر ہی اپنی نگاہوں سے بیان فرمایا تھا ۔ لیکن وہ تمام اوصاف خود بخود بعینہٖ بشارتِ سلیمان
کا حقیقی مصداق بن گئے ۔
کتاب مقدس میں مذکور ہے کہ حضرت سلیمان
سفر الحکمۃ میں نیکو کار اور بدکار لوگوں کے انجام کے ضمن میں امّت محمدیہ
سے متعلق بشارت بیان کرتےہوئے فرماتے ہیں:
فهم في وقت افتقادهم يتلألأون ، ويسعون سعي الشرار بين القصب ، ويدينون الأمم ويتسلطون على الشعوب ، ويملك ربهم إلى الأبد. المتوكلون عليه سيفهمون الحق ، والأمناء في المحبة سيلازمونه؛ لأن النعمة والرحمة لمختاريه. 62
جب ان (نیک لوگوں) کا وقت آئے گا ، تو وہ چمکیں گے جیسے آگ کی چنگاریاں بھڑک اُٹھتی ہیں ، اور وہ قوموں کے درمیان تیزی سے دوڑیں گے ۔ وہ قوموں پر حکومت کریں گے اور امتوں پر غلبہ پائیں گے ، اور ان کا خدا ہمیشہ کے لیے بادشاہی کرے گا ۔ جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ حق کو سمجھیں گے ، اور جو محبت میں اس کے وفادار ہیں وہ اس سے جُڑے رہیں گے ، کیونکہ نعمت اور رحمت اس کے برگزیدہ بندوں کے لیے ہے ۔
یہ بشارت درحقیقت رسول اللہ
اور آپ
کی امت کے متعلق ایک صریح اور واضح پیش گوئی ہے ، جو نہ صرف امت محمدیہ
کی روحانی بلندی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ان کے وسیع اثر و اقتدار ، عدل و انصاف اور دین کی سربلندی کی آئندہ منزل کی بھی پیش گوئی کرتی ہے ۔
قرآن کریم کے مطابق ، حضرت سلیمان
حضرت داؤد
کے وارث تھے ۔ 63 اور مفسرین کہتے ہیں کہ سلیمان
کو وراثت میں نبوت اور بادشاہت دونوں چیزیں ملی تھیں ۔ 64 چنانچہ حضرت داؤد
فرماتےہیں:
سب بادشاہ ا س کے آگے سرنگوں ہوں گے ، اور ساری قومیں اس کی اطاعت کریں گی ۔وہ فریاد کرنے والے محتاجوں ، اوربے یار ومددگار مصیبت کے ماروں کو چھڑائےگا ۔وہ کمزوروں اور محتاجوں پر ترس کھائے گا اور محتاجوں کو موت سے بچائے گا ، اور انہیں ظلم وتشدد سے چھڑائےگا ، کیونکہ ان کا خون اس کی نظر میں بیش بہا ہے ۔ 65
یعنی حضرت سلیمان
اور داؤ د
دونوں اس بات کی بشارت دےرہے ہیں کہ ایک ایسانبی آنے والا ہے جن کے سامنے بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران سرنگوں ہوں گے ، اور اس کی امت اس زمین کی مالک بنے گی ۔ اس بات کی گواہی خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ ہم نے زبور میں لکھا ہے کہ اس زمین کے مالک اور وارث میرے نیک بندے ہوں گے ۔ چنانچہ ارشاد ِ خدواندی ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ 10566
اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے ۔
حضرت ابن عباس
اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس فرمان الٰہی کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تورات کے بعد زبورِ داؤد
میں لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی وراثت امت محمدیہ
کو ملے گی ۔ 67 خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم کی رو سے حضرت داؤد
کو رسول اللہ
کی بعثت اور آمد کا علم بھی تھا اور آپ
نے ا س کی پیش گوئی بھی فرمائی ہے ۔ چنانچہ جو بشارت حضرت داؤد
نے بیان فرمائی ہے وہی بشارت حضرت سلیمان
نے بھی بیان فرمائی ہے ۔ قرآن کریم کے مطابق وہ بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اس زمین کے وارث ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے مراد رسول اللہ
او رخیر القرون کے زمانے میں آپ
کی امت ہے ۔چنانچہ زمین اورا ٓسمان نےدیکھا کہ خیر القرون کےزمانے میں امت محمدیہ
کو دیگر اقوام وملل ، یہود وہنود ، روم اور فارس کے حکمرانوں اور بادشاہوں پر تسلط اور غلبہ حاصل ہوا اور مسلمانوں نے ان سلطنتوں اور بادشاہتوں کا قلع قمع کر کے تمام روئے زمین پر اسلام کا علم بلند کیا۔
اس عبارت "ويملك ربهم إلى الأبد" کا مصداق امتِ محمدیہ
ہی ہے ۔ اس مقام پر لفظ "رب" دو ممکنہ معنوں کا احتمال رکھتا ہے ۔ اوّل یہ کہ یہاں رب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہو ، اور یہ استعمال نہایت معروف ہے ۔ اس صورت میں بشارت کا مصداق امتِ محمدیہ
اس لیے ہے کہ عیسائی حضرات عام طور پر تثلیث کے قائل ہیں ، توحیدِ خالص کے نہیں اورجب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہ ہو تو ذاتِ باری تعالیٰ پر حقیقی توکل خود بخود مفقود ہوجاتا ہے ۔ جبکہ امت محمدیہ
اپنی آغاز سے لے آج تک ایک خدا پرایمان رکھتے ہیں اور اسی پر توکل وبھروسہ کرتے ہیں ، اور ان کا ایمان ہے کہ وہی خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا ۔
دوم یہ کہ یہاں لفظ"رب" سے مراد نبی ہو ، جیساکہ بائبل کے عربی نسخوں میں لفظ "رب" حضرت مسیح
کے لیے استعمال ہوتا ہےتاہم دیگر تراجم میں اس کا ترجمہ سید ، معلّم اور نبی سے کیا جاتا ہے ۔ 68 اس صورت میں بشارت کا مصداق امت محمدیہ
اس لیے ہے کیونکہ آپ
ہی وہ نبی ہیں جن کی نبوت ابدی ہے ۔ آپ
اس وقت بھی نبی تھے جب آدم
ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے 69 اور تا قیامت آپ
نبی رہیں گے ۔ مزید یہ کہ آپ
کی امت آپ
پر ایمان رکھتی ہے ، اور آپ
کی ذات اور بات پر توکل کر کے آپ
کے لائے ہوئے دین کی تصدیق کرتی ہے ۔
یہوداہ جو حضرت مسیح
کے خادم اورحواری تھے ، انہوں نےاپنے خط میں حضرت ادریس
کی پیش گوئی نقل کی ہے جو اس بشارت کی تائید کرتی ہے ۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
وتنبأ عن هؤلاء أيضا أخنوخ السابع من آدم قائلا: هوذا قد جاء الرب في ربوات قديسيه ، ليصنع دينونة على الجميع ، ويعاقب جميع فجارهم على جميع أعمال فجورهم التي فجروا بها ، وعلى جميع الكلمات الصعبة التي تكلم بها عليه خطاة فجار. 70
اور اخنوخ (حضرت ادریس) ، جو آدم
سے ساتویں پشت میں تھا ، نے انہی لوگوں کے بابت یہ پیش گوئی کی اور کہا: دیکھو! خداوند اپنے دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آ ئے گا ۔ تاکہ سب پر عدالت کرے ، اور تمام بےدینوں کو ان کے بےدینی کے کاموں کے سبب سزا دےگا ، جو انہوں نے سرکشی کے ساتھ کیے ،اور ان سخت( گستاخانہ اور بے ہودہ ) باتوں پر ان کی گرفت کرلے جو گناہ گار اور بدکار انسانوں نے اس کے خلاف کہیں تھی ۔
اہلِ علم حضرات لکھتے ہیں کہ یہاں رب سے مراد حضرت محمد
ہیں ، اور ربواتِ مقدسہ سے مراد صحابۂ کرام
ہیں ۔آپ
فتح مکہ کے موقع پر اپنے 10 ہزار اصحاب
کے ساتھ تشریف لائے ۔ اور فتح مکہ کے بعد پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا ظہور اور غلبہ ہوا ، اور حضرت محمد
اپنی مقدس جماعت کے ساتھ کافروں پر غالب آئے ۔ 71
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت سلیمان
کی بیان کردہ یہ بشارات اپنے الفاظ ، مضامین اور تاریخی تحقق کے اعتبار سے نبی آخر الزماں حضرت محمد
اور آپ
کی امتِ مبارکہ پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ۔ نشید الانشاد میں وارد لفظ "محمدیم"نہ صرف لغوی و صوتی اعتبار سے اسمِ محمد
کی طرف واضح اشارہ رکھتا ہے بلکہ اس کے ساتھ مذکور اوصافِ جمال ، کلام کی شیرینی ، محبوبیت ، رفعت اور دس ہزار کے درمیان امتیاز ، سب کے سب احادیثِ صحیحہ میں بیان کردہ شمائلِ نبوی
اور فتحِ مکہ کے تاریخی واقعے سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح سفر الحکمۃ میں نیک بندوں کے غلبے ، قوموں پر ان کے اثر و اقتدار ، حق شناسی ، توکل ، رحمت اور برگزیدگی کا جو بیان آیا ہے ، وہ امتِ محمدیہ
کے ظہور ، خیر القرون کے عالمی فتوحات ، توحیدِ خالص کے قیام اور دینِ اسلام کے غلبے کی صورت میں تاریخ کے صفحات پر عملاً ظاہر ہوا ۔ مزید یہ کہ زبورِ داؤد ، پیش گوئیِ اخنوخ اور قرآنی تصریحات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ انبیائے سابقین
کو نبی کریم
کی آمد ، آپ
کے مقامِ محبوبیت ، آپ
کی امت کے غلبے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی زمین پر وراثت کی خبر دی گئی تھی ۔ لہٰذا حضرت سلیمان
کی یہ بشارات درحقیقت سلسلۂ بشاراتِ انبیاء
کی ایک روشن کڑی ہیں ، جن کا کامل اور حقیقی مصداق صرف رسول اللہ
کی ذاتِ اقدس اور آپ
کی امتِ ہے ۔