حضرت ادریس
کا شمار ان جلیل القدر انبیاء میں ہوتا ہے جن پر اللہ تعالی نے کچھ صحائف نازل کیے۔ان صحائف کی تعدا د احادیث واخبار کی رو سے تقریبا 30 تک پہنچتی ہے۔ حضرت ابوذر غفاری
فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
سے دریافت کیا : یا رسول اللہ
! اللہ تعالیٰ نے کل کتنی کتابیں نازل فرمائیں؟آپ
نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے 104 کتابیں نازل فرمائیں: شیث پر 50 صحیفے نازل کیے گئے، اخنوخ(یعنی ادریس)
پر 30 صحیفے نازل ہوئے، ابراہیم
پر 10 صحیفے نازل کیے گئے، موسی
پر تورات سے پہلے 10 صحیفے نازل کیے گئے،اور پھر تورات، انجیل، زبور اور قرآن مبین نازل فرمائے گئے۔ 1
امام بیضاوی اس آیت اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ...2 کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ رسالات میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تمام احکامات وارشادات الہیہ ہیں جو رسول اللہ
اور ماقبل انبیاء
پر وحی کئے گئے تھے جیسے شیث اور ادریس
کے صحیفے۔ 3 خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ادریس
پر بھی دیگر انبیاءورسل
کی طرح صحیفے نازل کیے گئے تھے۔
کتاب اخنوخ یا صحیفہ ادریس، اخنوخ (حضرت ادریس )
کی طرف منسوب ہے جن کا ذکر سفر پیدائش میں بھی آیا ہے۔ 4 اہلِ کتاب اس صحیفے کو غیر معتبر اسفار (Apocrypha) میں شمار کرتے ہیں، جو ابتدائی طور پر آرامی زبان میں لکھا گیا تھا۔ اس کا اصل آرامی نسخہ مفقود ہو چکا ہے لیکن اس کے بعض اجزاء یونانی تراجم میں محفوظ پائے گئے ہیں۔ اسی طرح ایک حبشی (ایتھوپیائی) ترجمہ بھی موجود ہے جو غالبا یونانی نسخے سے اخذ کیا گیا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق یہ کتاب آرامی زبان میں 163-80 قبل مسیح کے عرصے میں لکھی گئی ہے۔ 5 جبکہ بعض ماہرین الہیات کہتے ہیں کہ یہ کتاب پہلی بار یونانی زبا ن میں لکھی گئی تھی۔ 6 کتاب اخنوخ مجموعی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ کتاب ِاخنوخ یا اخنوخ اوّل اورد وسرا حصّہ اسرارِ اخنوخ یا اخنوخ ثانی کہلاتا ہے لیکن درحقیقت اس کے کئی اجزاء ہیں جو مختلف ادوار میں لکھے گئے ہیں۔ بلیفر کے مطابق اس کا مقدمہ 150-100 قبل مسیح میں لکھا گیاہے اور کتاب اوّل تقریبا 100 قبل مسیح ، کتاب ثانی ، کتاب خامس اور خاتمہ 100-80 قبل مسیح میں لکھے گئے ہیں جبکہ رؤیا اسابیع 163 قبل مسیح، اور باب نمبر 106اور 107 جو سفر نوح سے ماخوذ ہیں وہ اس سے بھی پہلے لکھے گئے ہیں۔ 7 بعض کے نزدیک رؤیا اسابیع کی تالیف کا دور مکابیین(یعنی 150قبل مسیح) سے بھی پہلے کی ہے۔8
اہل کتاب بشمول علماء یہود ونصاری کے نزدیک اس صحیفے کی کوئی الہامی حیثیت نہیں ہے ۔یہودی علماء کہتے ہیں کہ مستند اور معتبر اسفار کی تصنیف کا زمانہ حضرت موسی
سے لے کر حضرت عزیز
کے زمانے تک محدود ہے۔ پس جو صحیفے حضرت موسی
سے قبل یا اہلیانِ مجمع عظیم (Men of the Great Assembly) کے بعد لکھے گئے ہیں وہ اصولی طور پر الہامی نہیں بلکہ غیر الہامی اور غیر قانونی ہیں ۔ حضرت موسی
کی شخصیت چونکہ عیسائی حضرات کے لیے بھی ایک نمایاں حیثیت رکھتی تھی اس لئے ان کے نزدیک بھی یہودیوں کےیہ صحیفے معتبر تھے لیکن بعد کے ادوار میں انبیاء
سے منسوب تحریریں اور کتابیں بکثرت شائع ہوئیں لہذا صحتِ صُحف وثقاہتِ صُحف کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معیار کو سخت کر دیا گیا اور عہد نامہ قدیم اور جدید، دونوں سے ان صحیفوں کو نکال دیا گیا۔ 9
لیکن عیسائیوں کا ایک فرقہ، ایتھوپیائی یا حبشی چرچ جو آرتھوڈوکس ہی کی شاخ ہے، ان کے نزدیک آج بھی یہ صحیفہ معتبر ہے اور وہ اسے الہامی صحیفہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک کتاب مقد س کے 81 اسفار ہیں جن پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ اور انہی اسفار میں وہ کتابِ اخنوخ کو بھی شمار کرتے ہیں۔10 دیگر اہل کتاب کے نزدیک یہ ایتھوپیائی آرتھوڈوکس فرقہ اسی وجہ سے بدعتی اور گمراہ ہے کہ وہ ان اسفار وصحائف کو معتبر اور الہامی سمجھتا ہے۔
اسی طرح اہل علم کی ایک بڑی تعداد کا دعویٰ ہے کہ سفر ِاخنوخ الہامی اور حقیقی قانونی معتبر کتاب ہے اگرچہ یہ بھی دیگر اسفار اور کتبِ مقدسہ کی طرح تحریف اور تغیّر سے خالی نہیں ہےتاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ کتاب بالکلیہ محرف اور منگھڑت ہے۔اپنے اس مؤقف کے اثبات کے لیے یہ اصحابِ علم بطور دلیل کہتے ہیں کہ یہ کتاب بھی بحر میت کے مخطوطات (Dead Sea Scroll) میں دریافت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں خط عبرانیین اور خط یہوداہ (مسیحیوں کے نزدیک معتبر خطوط)میں اس کتاب سے استدلا ل موجود ہے ۔ آخر یہوداہ ایک ایسی غیر معتبر کتاب سے کیسے استدلال کر سکتے ہیں جو ان کے زمانے میں موجود ہی نہ تھی ؟ اور عبرانیین کے نام خط میں ایسی بات کا ہونا تعجب خیز ہے جس پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتے یا اسے غیر معتبر سمجھتےتھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ یہود ونصاری نے اس کتاب کا انکار صرف اس بناءپر کیا ہے کہ اس میں ابنِ انسان یعنی حضرت محمد مصطفی
کے متعلق صریح بشارات وارد ہیں۔11
حقیقت یہ ہے کہ کتاب اخنوخ قدیم عیسائی علماء کے نزدیک معتبر، الہامی اور قانونی کتاب کا درجہ رکھتی تھی۔عیسائیت کے ابتدائی ادوار کے علماء نے اس کتاب سے اقتباسات بھی اخذ کیے ہیں جن میں جاستین شہید، ارینوس، اوریجانوس اور اکلیمندوس اسکندری سر فہرست ہیں۔ لیکن بعد میں عیسائیوں نے اس کتاب کو غیر معتبر قرار دے کر انکار کیا۔ 12 یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہم بھی اس کتاب کو من وعن حق وسچ نہیں مانتے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں اہل کتاب کی تحریفات شامل ہیں اور اس میں حق وباطل دونوں کا امتزاج پایا جاتاہے ۔
مزید یہ کہ یہوداہ کے خط میں حضرت اخنوخ/ادریس
کے حوالے سے یہ پیش گوئی نقل کی گئی ہے کہ خداوند اپنے لاکھوں مقدسوں کے ساتھ آئے گا تاکہ سب لوگوں کا انصاف کرے اور بے دینوں کو سزا دے۔ 13 عیسائی علماء ایک طرف اس روایت کو کتابِ اخنوخ سے ماخوذ قرار دے کر اس کتاب کو غیر معتبر کہتے ہیں، 14 لیکن دوسری طرف اسی پیش گوئی کو حضرت مسیح
کی بعثتِ ثانیہ پر منطبق کرتے ہیں؛ حالانکہ یہوداہ خود اس نسبت کو حضرت اخنوخ
کی طرف لوٹاتا ہے جو حضرت عیسیٰ
سے بہت پہلے گزرے ہیں۔ 15 اسی طرح رسالۂ عبرانیین میں بھی حضرت اخنوخ
کے ایمان، قربِ الٰہی اور آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے، 16 جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت اور تعلیمات اہلِ کتاب کے ہاں معروف تھیں۔ مزید یہ کہ اہلِ کتاب کتابِ اخنوخ کو عمومی طور پر غیر معتبر کہتے ہیں، مگر اس میں موجود مسیحِ منتظر، ابنِ انسان اور عدل و انصاف سے متعلق بشارات کو قبول کر کے حضرت مسیح
پر منطبق کرتے ہیں؛ 17 جبکہ ایتھوپیائی آرتھوڈوکس کلیسا کے نزدیک کتابِ اخنوخ بائبل کا قانونی اور الہامی حصہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسائی موقف میں داخلی اضطراب پایا جاتا ہے: جہاں بشارت ان کے عقیدے کے موافق ہو وہاں اسے قبول کیا جاتا ہے، اور جہاں اس کی اصل وحیانی نسبت حضرت ادریس
تک پہنچتی ہے وہاں اسے غیر معتبر قرار دیا جاتا ہے؛ حالانکہ یہی امر اس بات کی تائید کرتا ہے کہ حضرت ادریس
پر وحی نازل ہوئی تھی اور ان کی تعلیمات میں آئندہ انبیاء و واقعات سے متعلق بشارات موجود تھیں۔
لہذ ا کتاب ِاخنوخ تاریخی اور مذہبی اعتبار سے نہایت اہم دستاویز ہے جو اگرچہ اہل کتاب کے نزدیک غیر معتبر ہے لیکن در حقیقت اس کی قانونی حیثیت بھی دیگر کتب مقدسہ کی طرح ہی ہے کہ اس میں کچھ چیزیں باطل اور کچھ حق ہیں۔ اس کتاب میں نبی موعود سے متعلق پیش گوئیاں بھی موجود ہیں جن کے مصداق کتب سابقہ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت محمد
ہی ہیں جیسا کے آگےچل کر بشارات کی تفصیلات سے واضح ہوگا۔
کتاب اخنوخ کےباب اوّل میں آپ
سے متعلق ایک بشارت موجود ہے جس کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
فهو يأتي مع ربوات قديسيه ليدين الكون، ويهلك كل شرير، ويخزي كل بشر بسبب كل الأعمال الشريرة التي اقترفوها، وبسبب كل الشتائم التي تفوه بها ضده الخطاة الأشرار.18
پس وہ اپنے دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آئے گا تاکہ پوری کائنات کو انصاف دلائے،اورہر بدکار کو ہلاک کرے اور تمام بدکار انسانوں کو ان کے برے اعمال کے سبب شرمندہ کرے جو انہوں نے کیے، اور ان سب بیہودہ باتوں کے سبب جو گناہگار وں اور شریروں نے اس کے خلاف بولے تھے۔
کتابِ اخنوخ کی اس بشارت کا مصداق درحقیقت رسولِ اکرم
ہیں، کیونکہ آپ
ہی وہ ہستی ہیں جو فتحِ مکہ کے موقع پر 10 ہزار صحابۂ کرام کے ہمراہ کفارِ مکہ پر ظاہر ہوئے۔ آپ
نے عدل و انصاف کا پرچم بلند کیا، تمام شریر اور سرکش مجرموں کا خاتمہ فرمایا، اور بالخصوص جزیرۂ عرب سے شرک و مشرکین کا مکمل صفایا کردیا۔ یہ بشارت رسالۂ یہوداہ میں پائی جاتی ہے جو عیسائیوں کے نزدیک الہامی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے اور عہدِنامۂ جدید کا ایک حصہ ہے۔چنانچہ یہوداہ اپنے اس خط میں لکھتا ہے:
وتنبأ عن هؤلاء أيضا أخنوخ السابع من آدم قائلا: هوذا قد جاء الرب في ربوات قديسيه، ليصنع دينونة على الجميع، ويعاقب جميع فجارهم على جميع أعمال فجورهم التي فجروا بها، وعلى جميع الكلمات الصعبة التي تكلم بها عليه خطاة فجار. 19
اور اخنوخ، جو آدم سے ساتویں پشت میں تھا، نے انہی لوگوں کے بابت یہ پیش گوئی کی اور کہا: دیکھو! خداوند اپنے دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آ ئے گا۔ تاکہ سب پر عدالت کرے، اور تمام بےدینوں کو ان کے بےدینی کے کاموں کے سبب سزا دے، جو انہوں نے سرکشی کے ساتھ کیے، اور ان سخت (گستاخانہ اور بے ہودہ ) باتوں پر ان کی گرفت کرے جو گناہ گار اور بدکار انسانوں نے اس کے خلاف کہیں تھیں۔
بائبل کے وہ مترجمین جو اس بشارت کا مصداق رسول اللہ
کےبجائے حضرت عیسی
کو قرار دیتے ہیں وہ اپنے آباؤ اجداد کی روش پر چلتے ہوئے اس عبارت کے ترجمے میں تغیّر اور تزویر سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا عبارت میں بھی مسیحی مترجمین لکھتے ہیں :
دیکھو! خداوند اپنے لاکھوں مقدسوں کے ساتھ آتا ہے؛ تاکہ سب لوگوں کا انصاف کرے اور سارے بے دینوں کو سزا کا حکم دے۔ 20
در اصل عیسائی علماء ہر دور میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کوشش کرتے ہیں کہ بشارات کی عبارتوں اور نصوص میں ایسی تحریفات کریں کہ وہ رسول اللہ
پر صادق نہ آئیں ، حالانکہ کتاب اخنوخ اور رسالہ یہوداہ کےعربی متون میں ایک ہی لفظ وارد ہے یعنی ربوات قدیسیہ جس کا معنی” 10 ہزار“ ہیں نہ کہ” 10 لاکھ“ اور نہ ہی ”لاتعداد“۔چنانچہ کتاب اخنوخ کے انگریزی مترجمین اس لفظ کا معنی" 10ہزار "سے کرتے ہیں۔رابرٹ ہنری چارلس (R. H. Charles) اس عبارت کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:
Behold! he comes with ten thousands of his saints, to execute judgement upon them . . . 21
اور دیکھو! وہ (اپنے) دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آئےگا؛ تاکہ ان پرفیصلہ (عدل وانصاف)صادر کرے۔
اسی طرح کتاب اخنوخ کا (Standard English Version) جو بلاواسطہ ایتھوپیائی(Ethiopic) زبان سے مترجم ہے اس میں بھی ربوات قدیسیہ کا ترجمہ Ten thousands(دس ہزار) سے کیاگیا ہے۔ 22 کنگ جیمز ورژن(KJV)کے رسالہ یہوداہ میں بھی دس ہزار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔چنانچہ اس نسخے میں یہ الفاظ ہیں:
And Enoch also, the seventh from Adam, prophesied of these, saying, Behold, the Lord comes with ten thousands of his saints. 23
اور حنوک نے بھی جو آدم سے ساتویں پشت میں ہے، ان کی بابت پیشینگوئی کی اور کہا کہ دیکھو! خداوند اپنے دس ہزار مقدسوں کے ساتھ آتا ہے۔
اور یہی معنی درست اور صحیح ہیں۔ اس کی تائید سفر تثنیہ (استثناء) کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں یہی لفظ آیا ہے۔ چنانچہ سفر استثناء میں ہے:
...وأتى من ربوات القدس...24
یہاں بھی اردو مترجمین تحریف کا دامن تھام کر لکھتے ہیں : لا تعداد مقدسوں کے ساتھ آیا۔25 جبکہ کنگ جیمز ورژن (KJV) میں یہاں بھی وہی ترجمہ ہےجو خط یہودا ہ میں ہے ۔ چنانچہ اس میں درج ہے:
and he came with ten thousands of saints. 26
اور وہ دس ہزارقدسیوں کے ساتھ آیا۔
پس ثابت ہوا کہ ربوات قدیسیہ کا معنی دس ہزار قدسی ہے جس کا عین مصداق آپ
کے وہ صحابہ کرام ہیں جو آپ
کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسالہ یہوداہ کے متن میں لفظ ربّ آیا ہے جبکہ اصل کتاب اخنوخ میں ہوضمیر ہے ۔ یہ بھی عیسائیوں کی تحریفات کا حصہ ہے ۔ اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ بائبل میں لفظ ربّ کا اطلاق مخدوم اور معلم پر ہوتا ہے۔ 27
علماء اسلام رسالہ یہوداہ کی اس بشارت کے متعلق کہتے ہیں کہ یہاں ”رب“ سے مراد حضرت محمد
ہیں، اور ربواتِ مقدسہ سے مراد صحابۂ کرام
ہیں۔ ان کی آمد کے ساتھ لفظ قد کواس لئے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ان کا آنا یقینی امر تھااور لفظ قد عربی زبان میں اگر فعل ماضی پر داخل ہوجائے تو اس میں یقین اور تحقیق کا معنی پیدا کردیتا ہے۔ 28 پس حضرت محمد
اپنی مقدس جماعت یعنی 10 ہزار قدسیوں کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پرتشریف لائے، اور اس وقت پورے عرب میں اسلام کا ظہور اور غلبہ ہوا۔ حضرت محمد
ہی اپنی مقدس جماعت کے ساتھ کافروں پر غالب آئے، منافقوں اور گنہگاروں کو ان کے نفاق اور اللہ اور رسول
کےساتھ ان کی بدزبانی پر انہیں شرمندہ کیااور مشرکین کو اللہ کی وحدانیت اور رسولوں کی رسالت کو قبول نہ کرنے اور بتوں اور مورتیوں کی پوجا کرنے پر سرزنش کی۔ مزید یہ کہ آپ
نے یہودیوں کو ان کے باطل عقائد پرنادم کیا، تثلیث کے ماننے والوں (نصرانیوں) کو بھی اللہ کی توحید میں کوتاہی اور حضرت عیسیٰ
کے بارے میں غلو کرنے پر ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی اور ان میں سے اکثر کو صلیب اور تماثیل کی عبادت اور ان کے کمزور عقائد پر شرمندہ کیا۔29
کتاب اخنوخ کی بشارت اورعلماء اسلام کے دعوی کی تائید سفر تثنیہ کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں یہی مضمون وارد ہے اور اس میں بھی فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے ۔ چنانچہ سفر تثنیہ میں ہے :
جاء الرب من سيناء، وأشرق لهم من سعير، وتلألأ من جبل فاران، وأتى من ربوات القدس، وعن يمينه نار شريعة لهم .30
رب سیناء سے آیا، اور سعیر سے اُن پر نمودار ہوا۔اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔اور دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا۔ اور ان کے داہنےہاتھ میں ان کے لیے شریعت کی چمکتی ہوئی آگ تھی۔
یہ بات ذہن نشین رہےکہ سفر استثناء میں نبی موعود کی آمد کو ماضی کے صیغے یعنی (جاء الرب) سے تعبیر کیا گیا ہے، اور بالکل اسی طرح خطِ یہوداہ میں بھی عبارت (قد جاء الرب) استعمال ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، کتاب اخنوخ (
) میں نبی موعود کی آمد کے لیے مستقبل یعنی (فهو يأتي) کا صیغہ آیا ہے۔ یہاں کوئی حقیقی تضاد موجود نہیں، اور نہ ہی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کتاب اخنوخ کے الفاظ مستقبل کی طرف اور سفر استثناء یا خطِ یہوداہ کے الفاظ ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے کتاب اخنوخ میں مستقبل کا ذکر ہے، بالکل ویسے ہی سفر استثناء اور خطِ یہوداہ میں بھی مراد حقیقتاً مستقبل ہی ہے، اگرچہ ظاہری طور پر ماضی کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ سفرِ استثناء اور خطِ یہوداہ کے الفاظ میں یقینی طور پر دو احتمالات ہوسکتے ہیں ۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا احتمال یہ ہے کہ یہ الفاظ دراصل محرف ہیں، یعنی اصل کلامِ الٰہی میں صیغہ مستقبل کا تھا، مگر بعد کے مترجمین اور کاتبین نے تحریف کرکے اسے ماضی کے صیغے میں تبدیل کر دیا۔ عبد السلام محمدی مہتدی (سابق یہودی حبر، خوجہ ایلیا یہودی، متوفی ٰ 1512ء) اسی احتمال کو زیادہ قوی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تورات کے معروف اسالیب میں یہ اسلوب نہیں ہے کہ ماضی کا صیغہ استعمال کر کے مستقبل کا مفہوم مراد لیا جائے۔ ان کے نزدیک اصل عبارت میں صیغۂ مستقبل تھا، جسے بعد میں یہود نے بدل کر ماضی بنا دیا۔ چنانچہ خود مفسرینِ تورات ایسے مقامات اور کلمات کے مفاہیم پر متفق نہیں ہیں،بعض اسے حضرت یوشع
کی تحریر قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک یہ کلمات عزیر کاتب کے ہیں۔ جب خود یہود اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ کتاب بعینہٖ منزل من اللہ اپنی اصل حالت میں محفوظ نہیں رہی، تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ و معانی میں تغیر و تحریف واقع ہو چکی ہے۔31 سموأل بن یحییٰ اندلسی( سابق یہودی عالم، متوفی ٰ 570 ہجری) تورات میں تحریف کو دلائل کی روشنی میں ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ
نے تورات کو ہارون کے سپرد کردی اور اسے انہی کے خاندان تک محدود رکھا۔بعد کے ادوار میں ہارونی ائمہ نے تورات کے بڑے حصے کو حفظ کر رکھا تھا لیکن جب بخت نصر نے بیت المقدس فتح کیا تو اس نے ان سب کو ایک ہی دن قتل کر دیا۔ چنانچہ حضرت عزیر
نے دیکھا کہ ہیکل جلا دیا گیا، ان کا شیرازہ بکھر گیا اور ان کی کتاب بھی اٹھا لی گئی، تو انہوں نے اپنی یادداشت اور ان مختلف حصوں کو، جو کاہنوں کو یاد تھے، جمع کر کے ایک یہ تورات مرتب کی جو آج اہلِ کتاب کے پاس موجود ہے۔32
دوسرا احتمال یہ کہ یہ الفاظ غیرمحرف ہیں، اور اس میں کسی قسم کی تحریف یا تبدیلی کا شائبہ نہیں، بلکہ کلامِ الٰہی میں یہ عین اسی صورت میں وارد ہیں۔اس صورت میں جو اصول قرآن کریم کے ہیں وہی اصو ل یہاں بھی جاری ہوں گے۔ علامہ سیوطی نے قرآن کریم کے اسالیب میں ذکر کیا ہے کہ کبھی کبھار ماضی کے صیغے کو مستقبل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ وقوعِ کار کو یقینی اور قطعی ظاہر کیا جا سکے۔ 33 چونکہ اس امر کا واقع ہونا یقینی ہوتا ہے اس لیے اسے ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جبکہ مشہور ماہرِ لسانیات عیسائی محقق ویلیم گیزینیئس(Wilhelm Gesenius) اپنی کتاب میں perfect(ماضی) کے استعمالات میں لکھتے ہیں کہ مستقبل کے واقعات کو ایسے بیان کرنا، جیسے وہ پہلے ہی مکمل ہوچکے ہوں یااس کا واقع ہونا یقینی ہو،یا ایسے حقائق جو بلاشبہ عن قریب وقوع پزیر ہونے والے ہوں ، اسے بیان کرنے کے لیے بھی perfect (ماضی) کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آگےلکھتے ہیں:
This use of the perfect occurs most frequently in prophetic language (Perfectum Propheticum). The prophets so transports himself in imagination into the future that he describes the future event as if it had been already seen or heard by him. 34
صیغۂ ماضی کا یہ استعمال زیادہ تر انبیاء کے کلام میں پایا جاتا ہے، (جسےPerfectum Propheticum یا perfect propheticکہاجاتا ہے۔) نبی اپنے آپ کو ذہنی طور پرمستقبل میں منتقل کرتے ہیں اور اس مستقبل کے واقعے کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے وہ اسے پہلے ہی دیکھ چکے یا سن چکے ہوں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یا تو یہاں اصل میں صیغہ مستقبل کاتھا اور تحریف کر کے اسے ماضی کا صیغہ بنا دیا گیا ہے، اور یا اصل ہی میں ماضی کا صیغہ تھا اور اب بھی ویسا ہی ہے، دونوں صورتوں میں مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔جبکہ عیسائی علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ الفاظ مستقبل کی پیشن گوئی ہیں۔35
کتاب اخنوخ کے ‘‘باب مصیر الاشرار والابرار’’، جو بدکاروں اور نیکوکاروں کے انجام سے متعلق ہے، اس باب میں بدکاروں کا انجام ذکر کرنے کے بعد حضرت ادریس
صالحین اور نیک لوگوں کا انجام ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أما الأبرار فيكون لهم النور والنعمة والسلام، هم يرثون الأرض، وأنتم اللعنة أيها الأشرار. حينئذ يعطى للأبرار النور والنعمة، وهم يرثون الأرض . 36
رہی بات نیک اور صالح لوگوں کی تو ان کے لیے نور، نعمت اور سلامتی ہوگی، وہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اور اے بدکارو! تم پر لعنت ہوگی۔ اس وقت صالح لوگوں کو نور اور نعمت عطا کی جائے گی،اور وہ زمین کے وارث ہوں گے۔
عربی نسخے کے الفاظ يرثون الأرضمیں تکرار پائی جاتی ہے جو انگریزی نسخوں میں نہیں ہے اور وہی صحیح ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ انگریزی مترجمین میں رابرٹ ہنری چارلس (R. H. Charles) نےاس بشارت کو عربی نسخے کے مطابق کتاب اخنوخ، باب نمبر 5، آیت نمبر 7 اور 8 میں ذکر کیا ہےجبکہ کتاب اخنوخ کے (Standard English Version) میں یہی بات باب نمبر 2 ، آیت نمبر 15،14 میں مذکور ہے۔اور الفاظ دونوں ترجموں کے بالکل ایک ہیں جس میں تکرار بھی مفقود ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
But for the elect there shall be light and joy and peace, and they shall inherit the earth. And then there shall be bestowed upon the elect wisdom. 3738
لیکن نیک لوگوں کے لیے نور، خوشی اور سلامتی ہوگی، اور وہ زمین کے وارث بنیں گے۔ اور پھر نیک لوگوں کو حکمت عطا کی جائے گی۔
حضرت ادریس
ان آیات میں اس نبی کی بابت پیشین گوئی فرما رہے ہیں، جس کی امت زمین کی وارث بنے گی۔ اور تاریخ نے گواہی دی کہ یہ پیش گوئی امتِ محمدیہ
پر صادق آئی۔ کیونکہ اس امت کے صالحین اور نیک افراد روم و فارس کی سلطنتوں کو زیر کر کے ان کی بادشاہتوں کے وارث بنے، جبکہ نصاریٰ زمین کے وارث بننے کے بجائے ان سلطنتوں سے بھی محروم ہوگئے جو ان کے قبضے میں تھیں۔ 39 اسی بشارت کی طرف اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرما یا ہے:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ 10540
اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے۔
امام طبری نقل کرتے ہیں کہ "زبور" سےتمام کتب وصحفِ سماویہ سابقہ اور "ذکر" سے لوح ِمحفوظ مراد ہے۔41 ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس فرمان الہی کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تورات کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی وراثت امّتِ محمدیہ
کو ملے گی۔ 42 پہلے قول کے مطابق یہ آیت صراحتاً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دیگر کتبِ سماویہ، بشمول کتابِ اخنوخ میں بھی یہی بشارت مذکور ہے۔جبکہ حضرت ابنِ عباس
کے قول کے مطابق یہ آیت اشارۃً اس بشارت پر دلالت کرتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہی بشارت تورات، زبور، کتابِ اخنوخ اور دیگر الہامی کتابوں میں بھی مذکور ہو۔
اس کی تائید حضرت سلیمان
کی طرف منسوب کتابِ ”سفرِ الحکمۃ“ کی آیات سے بھی ہوتی ہے،جن میں اسی بشارت سے مشابہ الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ کتاب مقدس میں مذکور ہے:
أما نفوس الصديقين فهي بيد الله، فلا يمسها العذاب. وفي ظن الجهال أنهم ماتوا، وقد حسب خروجهم شقاءً. وذهابهم عنا عطبا، أما هم ففي السلام، ومع أنهم قد عوقبوا في عيون الناس، فرجاؤهم مملوء خلودا، وبعد تأديب يسير لهم ثواب عظيم؛ لأن الله امتحنهم فوجدهم أهلا له، محّصهم كالذهب في البودقة، وقبلهم كذبيحة محرقة، فهم في وقت افتقادهم يتلألأون، ويسعون سعي الشرار بين القصب، ويدينون الأمم ويتسلطون على الشعوب، ويملك ربهم إلى الأبد، المتوكلون عليه سيفهمون الحق، والأمناء في المحبة سيلازمونه؛ لأن النعمة والرحمة لمختاريه . 43
نیک لوگوں کی روحیں خدا کے ہاتھ میں ہیں، پس انہیں کوئی عذاب چھو بھی نہیں سکتا۔ اور نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ (نیک لوگ) مر گئے، اور ان کا دنیا سے رخصت ہونا ایک مصیبت سمجھا گیا، اور ہمارا ان سے جدا ہونا ہلاکت خیال کیا گیا، حالانکہ وہ دراصل سلامتی (امن و امان) میں ہیں۔ اگرچہ لوگوں کی نگاہ میں وہ سزا یافتہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی امید ہمیشہ کے لیے بقا اور ابدی زندگی سے بھری ہوئی ہے۔ تھوڑی سی آزمائش کے بعد ان کے لیے بڑا اجر ہے، کیونکہ خدا نے انہیں آزمایا اور اپنے لیے موزوں پایا۔ اس نے انہیں بھٹی میں سونے کی طرح پاک کیا، اور انہیں قربانی کی طرح قبول فرمایا۔ پس جب ان کا وقت آئے گا، تو وہ چمکیں گے جیسے آگ کی چنگاریاں بھڑک اُٹھتی ہیں، اور وہ قوموں کے درمیان تیزی سے دوڑیں گے۔ وہ قوموں پر حکومت کریں گے اور امتوں پر غلبہ پائیں گے، اور ان کا خدا (رب) ہمیشہ کے لیے بادشاہی کرے گا۔ جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ حق کو سمجھیں گے، اور جو محبت میں اس کے وفادار ہیں وہ اس سے جُڑے رہیں گے، کیونکہ نعمت اور رحمت اس کے برگزیدہ بندوں کے لیے ہے۔
یہاں ”رب“ یا تو خالقِ حقیقی کے معنی میں ہے اور یا معلم اور نبی کے معنی میں۔ دونوں صورتوں میں ان آیات کا مصداق امّتِ محمدیہ
ہے۔ پہلی صورت میں اس لیے کہ عیسائی تثلیث کے قائل ہیں توحید کے نہیں ، اور جب وہ توحید کے قائل نہیں تو اللہ تعالی کی ذات پر ان کا توکل خود بخود مفقود ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں امت محمدیہ
والے ابتداء سے ایک خدا پرایمان رکھتے ہیں اور اسی پر توکل وبھروسہ کرتے ہیں، اور وہی خدا ہے جو ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا۔ دوسری صورت میں جبکہ لفظِ ”رب“ معلم اور نبی کے معنی میں ہو تو اسلئے دلالت ہوتی ہے کیونکہ رسول اللہ
کی نبوت ہی درحقیقت ابدی ہے۔آپ
اس وقت بھی نبی تھےجب آدم
روح اور جسم کے درمیان تھے۔ 44 اور تا قیامت آپ
نبی رہیں گے۔ آپ
کی امت آپ
پر ایمان لائی ہے، آپ
کی تصدیق کی ہے اور آپ
ہی کی امت کو اقوام وملل پر تسلط حاصل ہوا ہے۔اور یہ تسلط اس دور میں واقع ہوا جب آپ
کی امت نے خیر القرون کے زمانے میں یہود وہنود، فارس اور روم کی بادشاہتوں کا قلع قمع کیا او ر تمام روئے زمین پر علمِ اسلام بلند کیا ۔
کتاب اخنوخ کے ”باب الامثال“ میں بھی رسول اللہ
کے متعلق بشارت واردہے، جس میں حضرت ادریس
نے اپنے دوست فرشتے سے ابنِ انسان کے متعلق سوال کیاتھا۔ چنانچہ کتاب مقدس میں مذکور ہے:
سألت عن ابن الإنسان هذا، أحد الملائكة القديسين الذي كان يرافقني ويريني جميع الأسرار: من هو هذا؟ ومن أين يأتي؟ ولما يرافق رأس الأيام؟ فأجابني: هو ابن إنسان، له البر، البر يقيم معه. وهو من يكشف كل كنز الأسرار. فهو من اختاره رب الأرواح، ونال نصيبه نصرا أمام رب الأرواح، بحسب الحق، إلى الأبد. وابن الإنسان هذا الذي رأيته، يقيم الملوك والمقتدرين عن مضاجعهم، والأقوياء عن مقاعدهم. يحل رباط الأقوياء، ويحطم أسنان الخطاة. يطرد الملوك عن عروشهم ومن مملكتهم؛ لأنهم لم يعظموه ولم يمجدوه. 45
میں نے اس مقدس دوست فرشتے سے پوچھا جو مجھے سب راز دکھا رہا تھا: یہ ابنِ انسان کون ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اور وہ سَر ایام (زمانے کے آغاز) سے کیوں ہے؟ فرشتے نے جواب دیا: یہ ابنِ انسان ہے، جو راستبازی (نیکی) کا مالک ہے، اور نیکی اس کے ساتھ قائم ہے۔ یہ وہی ہے جو تمام بھیدوں کے خزانے ظاہر کرے گا۔ اسے رب الارواح نے چن لیا ہے، اور اس نے اپنے رب کے حضور ہمیشہ کے لیے حق کے اعتبار سےفتح پائی ہے۔ یہ وہی ابنِ انسان ہے جسے تُو نے دیکھا، جو بادشاہوں اور مقتدر لوگوں کو ان کے تختوں سے اٹھا دے گا، اور طاقتوروں کو ان کی نشستوں سے گرا دے گا، جابروں کے بندھن کھول دے گا، اور گناہگاروں کے دانت توڑ دے گا۔ وہ بادشاہوں کو ان کے تختوں اور مملکتوں سے محروم کر دے گا، کیونکہ انہوں نے نہ اس کی تعظیم کی اور نہ بڑائی بیان کی۔
عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح
(نعوذ باللہ ) بیک وقت دو حیثیتوں کے حامل ہیں یعنی ابنِ خدا بھی ہیں اور ابنِ انسان بھی ہیں۔46 اسی لیے عیسائی حضرات ان تمام بشارات جس میں ابنِ انسان کا لفظ وارد ہے اس کا مصداق حضرت عیسی
کو ٹھہراتے ہیں حالانکہ ان کا یہ عقیدہ سراسر باطل ہے ،حتی کہ بائبل کی عبارات بھی اس کے بطلان پر شاہد ہیں ۔ چنانچہ انجیل لوقا میں ہے :
وَكُلُّ مَنْ قَالَ كَلِمَةً عَلَى ابْنِ الإِنْسَانِ يُغْفَرُ لَهُ، وَأَمَّا مَنْ جَدَّفَ عَلَى الرُّوحِ الْقُدُسِ فَلاَ يُغْفَرُ لَهُ. 47
اور جو کوئی ابنِ انسان کے خلاف کوئی بات کرے گا، اسے معاف کر دیا جائے گا، لیکن جو روح القدس کے خلاف کفر بکتا ہے ، اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
عیسائیوں کے قول کو باطل قرار دینے کے لیےیہ بات کافی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک مذکورہ بالا استدلال کے مطابق ابنِ انسان دراصل روح القدس ہی ہے۔ لیکن مسیح؈ کےاپنے الفاظ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ دونوں (ابنِ انسان اور روحُ القدس) الگ الگ ہیں، ان میں سے ایک (ابنِ انسان) اس کو بھی معاف کر دیتا ہے جو اس کے خلاف بات کرے، جبکہ دوسرا (روحُ القدس) اس کو معاف نہیں کرتا جو اس کے خلاف بات کرے۔ یہ وضاحت خود بخود ہر شبہ کو دور کر دیتی ہے۔ اگر مسیح؈ ابنِ انسان ہیں، تو وہ روحُ القدس نہیں ہو سکتے، جیسا کہ ان کے اپنے قول سے واضح ہے اور اگر وہ روحُ القدس ہیں، تو وہ ابنِ انسان نہیں ہو سکتے۔ اور اگر کہا جائے کہ ابنِ انسان ہی روحُ القدس ہے، تو پھر (نعوذ باللہ) مسیح ؈ کا قول جھوٹا ٹھہرے گا، کیونکہ انہوں نے خود ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے، ایک کے لیے مغفرت بیان کی، اور دوسرے کے لیے نہیں۔ 48 مزید یہ کہ خود کتاب اخنوخ کے باب نمبر 60 میں ابنِ انسان کا اطلاق حضرت نوح
پر بھی ہوا ہے۔ 49
پس ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا بشارت میں ابنِ انسان سے مراد رسول اکرم
ہیں، نہ کہ حضرت مسیح
،کیونکہ بائبل میں ابنِ انسان نہ تو حضرت مسیح
کے مخصوص القابات میں شامل ہے اور نہ ہی ان کے خاص اسماء میں آتا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت مسیح
کی پیدائش بغیر باپ کےہوئی ہے، اس لیے انہیں انسانوں میں سے کسی باپ کا بیٹا کہنا درست نہیں۔ 50 علاوہ ازیں، مذکورہ بالا بشارت میں جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، کہ ابنِ انسان (نبی موعود) جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ مقتدر سرداروں، جابر بادشاہوں اور طاقتور حکمرانوں کے ساتھ جہاد کریں گے، اور انہیں تخت و تاج سے محروم کر کے ان کی سطوت و سلطنت کا خاتمہ کریں گے تو یہ تمام اوصاف حضرت محمد
پر پوری طرح صادق آتے ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ
نے اپنی پہلی بعثت کے زمانے میں کوئی جہاد نہیں فرمایا تھا۔
سابقہ بشارت میں حضرت ادریس
کا ایک سوال ابنِ انسان کے سَر ایام (آغازِ زمانہ) سے موجود ہونے کے متعلق تھا۔اس لیے اس کے آگے باب نمبر 48 میں ابنِ انسان کے وجود کے بارے میں تفصیل سے مذکور ہے۔ چنانچہ کتاب اخنوخ میں مذکور ہے:
في هذه الساعة دعي ابن الإنسان هذا إلى رب الأرواح، ونودي باسمه أمام رأس الأيام. قبل أن تخلق الشمس والعلامات، قبل أن تصنع كواكب السماء، أعلن اسمه أمام رب الأرض، يكون عصا للأبرار، يستندون إليها ولا يعثرون. يكون نور الأمم، يكون رجاء المتألمين في قلوبهم. أمامه ينحني ويسجد كل سكان اليابسة. يمجدون، يباركون، ينشدون رب الأرواح.لهذا صار المختار، وذاك الذي كان خفيا لديه قبل خلق العالم وحتى مجيء الدهر. 51
اس وقت ابنِ انسان کو ربّ الارواح کی جانب سے پکارا گیا، اور اس کا نام سَر ایّام (زمانے کے آغاز) سے قبل رکھا گیا ۔ اس وقت جب نہ سورج پیدا ہوا تھا، نہ نشانیاں (اجرامِ فلکی)، اور نہ ہی آسمان کے ستارے بنائے گئے تھے۔تب ہی اس کا نام ربِ ارض کے حضور علی الاعلان ظاہر کیا گیا ،کہ وہ نیکوکاروں کے لیے عصا کے مانند (سہارا) ہوگا، وہ اس پر بھروسہ کریں گے اور کبھی نہیں لڑکھڑائیں گے۔ وہ اقوامِ عالم کے لیے نور ہوگا، اور دکھی دلوں کے لیے امید بنے گا۔ اس کے آگے زمین کے تمام باشندے جھکیں گے اور سجدہ کریں گے۔ اورربّ الارواح کی تعریف و تسبیح بیان کریں گے، اور ان کی حمد کے نغمے گائیں گے۔ اسی لیے وہ برگزیدہ (مختار) کہلایا، اور وہی ہے جو دنیا کی تخلیق سے قبل رب کے حضور پوشیدہ رکھا گیا تھا، یہاں تک کہ زمانے کے ظہور (دنیا کے آغاز) کا وقت آیا۔
اس عبارت میں یہ صراحتاً موجود ہے کہ ابنِ انسان (حضرت محمد مصطفی
) سَر ایّام یا ابتدائے زمانے سے قبل بھی موجود تھے۔ یعنی آپ
کا نور اور آپ
کی ذات اس وقت بھی موجود تھی جب نہ سورج کو اللہ تعالی نے پیدا فرمایا تھا ، نہ ستارے اور نہ دیگر اجرام فلکی پیدا فرمائے تھے، اور نہ ہی اللہ تعالی نے حضرت آدم
کی تخلیق فرمائی تھی۔
اس بشارت میں مذکور اوصاف وواقعات کے تائید کئی احادیث شریفہ سے بھی ہوتی ہے ۔ امام حاکم حضرت عمر
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
نے حضرت ِآدم
کا واقعہ (جب ان سے لغزش ہوئی اور وہ بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوئےاور پھر سر اٹھایاتو قوائم عرش پر لا إله إلا الله محمد رسول الله لکھا دیکھا ) بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ اللہ تعالی نے آدم
کو خطاب کیا: اے آدم! بے شک وہ (محمد
) ساری مخلوق میں مجھے محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تمہاری بخشش کرونگا۔اور اگر محمد
نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔ 52 اسی طرح حضرت ابن عباس
سے روایت ہے کہ رسول اللہ
نے حدیث قدسی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (الله تعالی نے فرمایا)میری عزت وجلال کی قسم! اگر تم نہ ہوتے، نہ جنت پیدا کی جاتی اور نہ دنیا پیدا کی جاتی۔ 53 اور حضرت عرباض بن ساریہ
فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
کو فرماتے ہوئے سنا:
إني عند الله في أم الكتاب لخاتم النبيين، وإن آدم لمنجدل في طينته. 54
بے شک میں اللہ کے نزدیک اُمّ الکتاب (لوحِ محفوظ) میں خاتمُ النبیین کے طور پر لکھا جا چکا تھا، حالانکہ آدم ابھی اپنی مٹی میں گوندھے جا رہے تھے (یعنی ابھی ان کی تخلیق مکمل بھی نہیں ہوئی تھی)۔
بدقسمتی سے، عیسائیت کے ابتدائی علماء نے بائبل میں تحریفات کیں، ورنہ پولس رسول نے اپنے خطوط میں جو اوصاف حضرت عیسیٰ
کے لیے ذکر کئے ہیں وہ دراصل کتابِ اخنوخ میں مذکور بشارت سے ماخوذ اوصاف ہیں، اور یہ تمام خصوصیات حضور نبی کریم
پر بخوبی صادق آتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے ایک خط میں لکھتا ہے:
مسیح اندیکھے خدا کی صورت ہے اور تمام مخلوقات سے پہلے موجود ہے ۔ اسی کے وسیلے سے خدا نے سب کچھ خلق کیا ہےچاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں یا زمین کی، دیکھی ہوں یا اندیکھی، تخت ہوں یا ریاستیں، حکومتیں ہوں یااختیارات۔ ان سب کو خدا نے مسیح کے ذریعے اور اسی کی خاطر پیدا کیا۔ وہ سب چیزوں میں سے پہلے ہےاور اسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں۔کلیسیا اس کا بدن ہے اور وہ اس بدن کا سر ہے۔وہی مبداء ہے اور مُردوں میں سے جی اٹھنے والوں میں پہلوٹا ہے تاکہ سب باتوں میں پہلا درجہ اس کا ہو۔ 55
یہاں تحریف کی واضح دلیل یہ ہے کہ دیگر اوصاف کی طرح یہ وصف ( یعنی مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹا ہے) بھی حضرت عیسیٰ
کی طرف منسوب کر دیا گیا، حالانکہ یہ رسولِ اکرم
کی خصوصیات میں سے ہے،کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلے قبر سے آپ
ہی کو اٹھایا جائے گا۔ 56 امام بخاری
حضرت ابو سعید خدری
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
نے فرمایا:
فإن الناس يصعقون يوم القيامة، فأكون أول من تنشق عنه الأرض. 57
لوگ قیامت کے دن بیہوش ہوجائیں گے، اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا۔
یعنی یہ بات اسلامی روایات اور متون میں تو عام ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آپ
کو اٹھایا جائے گا جبکہ اس کے برعکس مسیح کا کوئی قول یا بائیبل کی کوئی عبارت ایسی نہیں ملتی سوائے پولوس کے اپنے من گھڑت عقیدے کے جس کو اس نے مذکورہ بالا عبارت میں بیان کیا ہے۔
پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ‘‘کلیسیا اس کا بدن ہے اور وہ اس بدن کا سَر ہے’’، حالانکہ اس کے عربی متن میں ہے وَهُوَ رَأْسُ الْجَسَدِ، الْكَنِيسَةِ الَّذِي هُوَ الْبَدَاءَةُ...58 یعنی وہ سَر جسم ہے، کلیسا جس کا آغاز ہے۔ حالانکہ یہ درحقیقت وہی رأس الأيام (سَر ایام، آغاز ِزمانے سے موجود ہونا) ہے جس کا ذکر کتاب اخنوخ میں موجود ہے لیکن اس میں تحریف کرکے اسے رأس الجسم کردیا گیا ہے۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ کتابِ اخنوخ تحریف شدہ ہے، کیونکہ اس میں نبیِ موعود کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہوئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اقوامِ عالم نبیِ موعود کے سامنے سجدہ کریں گی۔ چونکہ اسلام میں غیرِ اللہ کے سامنے سجدہ کرنا حرام ہے، لہٰذا وہ اس بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ کتابِ اخنوخ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں رہی بلکہ محرف ہو چکی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ کتابِ اخنوخ بھی دیگر کتبِ سماویہ کی طرح تحریف کا شکار رہی ہے، لیکن محض اس ایک عبارت سے استدلال کرتے ہوئے اس کتاب کو کلیۃً محرف قرار دینا یا خصوصاً بشارتِ محمدی
کو باطل ٹھہرانا درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سجدہ کا لفظ لغوی معنی یعنی چہرہ زمین پر رکھنے کے مفہوم میں نہیں آیا، بلکہ اس سے مراد خضوع، انکسار اور سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ مترجم نے اصل نسخے سے ترجمہ کرتے وقت سرنگوں ہونے کے مفہوم کوسجدہ کرنے کے معنی میں بیان کر دیا ہو۔ 59
کتاب اخنوخ کے مطابق حضرت ادریس
نے خواب دیکھا تھا جسے رؤیا اسابیع(ہفتوں کاخواب ) کہا جاتا ہے۔ رؤیا اسابیع کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ 163 قبل مسیح میں لکھا گیا ہے۔60 چنانچہ کتاب اخنوخ میں حضرت ادریس
کی طرف منسوب ہے :
تفوه أخنوخ بمثله (حسب ما كتب) فقال: ولدت السابع، في الأسبوع الأول، ملك البر (والحق) حتى جئت أنا. بعدي، في الأسبوع الثاني، ازدهر الكذب والعنف، فكانت التتمة الأولى، ولكن نجا إنسان (أيضا)، بعد التتمة نما العنف، ولكن وضع ناموس للخطاة۔ ثم في الأسبوع الثالث، وفي تتمته، اختير إنسان، كنيته الدينونة البارة، وصار نسله غرس بر إلى الأبد. ثم في الأسبوع الرابع وفي تتمته، تراءى القديسون الأبرار، وأعطي لهم ناموس وحظيرة لجميع الأجيال. ثم في الأسبوع ا لخامس وفي تتمته، تأسس بيت المجد والملك إلى الأبد. في الأسبوع السادس، يعمى كل العائشين فيه، وتنسى قلوبهم كلها الحكمة، ولكن يصعد إنسان إلى السماء، في تتمة (الأسبوع) يحرق بيت الملك بالنار، ويتشتت كل نسل الجذر المختارز ثم في الأسبوع السابع يقوم جيل فاسد، يفعل الكثير وجميع أفعاله تكون فاسدة. وفي تتمة (الأسبوع)، يختار الله الأبرار كشهود الحق من نبتة البر الأبدي، فينالون الحكمة والمعرفة ستة أضعاف. 61
اخنوخ (حضرت ادریس) اسی طرح (جیسا کہ لکھا گیا ہے) گویا ہوئے: میں ساتویں نسل میں پیدا ہوا پہلے ہفتے (اسبوع) میں، جب نیکی اور حق کی بادشاہت تھی، یہاں تک کہ میں آیا۔ میرے بعد دوسرے ہفتے میں جھوٹ اور ظلم پروان چڑھا، اور پہلی تباہی واقع ہوئی ، لیکن ایک انسان بچ گیا۔ تباہی کے بعد ظلم پھر بڑھا، مگر گناہگاروں کے لیے ایک شریعت مقرر کی گئی۔اور پھر تیسرے ہفتے، اور اس کے اختتام پر ایک انسان منتخب ہوا، جس کی کنیت عادلانہ فیصلہ قرار پائی، اور اس کی نسل ابدی نیکی کا پودا بن گئی۔ چوتھے ہفتے کے آخر میں، مقدس اور نیک لوگ ظاہر ہوئے، اور ان کو شریعت دی گئی، جو تمام نسلوں کے لیے چراگاہ (رہنماء) بنی۔ پانچویں ہفتے کے آخر میں، جلال اور بادشاہت کا گھر ہمیشہ کے لیے قائم ہوا۔ چھٹے ہفتے میں رہنے والے سب اندھے ہوگئے، ان کے دلوں نے حکمت بھلا دی، لیکن اس کے آخر میں، ایک انسان آسمان پر اٹھایا گیا، اور بادشاہ کا گھر آگ سے جلا دیا جائیگا، اور منتخب نسل کی جڑ بکھر جائیگی۔ ساتویں ہفتے میں، ایک بگڑی ہوئی نسل پیدا ہوگی، جو بہت کچھ کرے گی مگر سب کے اعمال فاسد ہوں گے۔ اور اس کے آخر میں، اللہ تعالی ابدی نیکی کے پودے سے نیکو کاروں کو حق کے گواہوں کے طور پر چن لے گا ، اور ان کو چھ گنا زیادہ حکمت اور علم عطا کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ عربی نسخے میں رؤیا اسابیع کے الفاظ اور ابواب میں تقدیم وتاخیر پایا جا رہا ہے لیکن انگلش نسخے، رابرٹ ہنری چارلس (R.H Charles) کے ترجمے میں سلیس عبارت اور بغیر خلط ملط کے مذکور ہے ۔اس کے علاوہ ا س میں ہے کہ نیکوکاروں کو سات گناہ زیادہ علم وحکمت عطا کی جائے گی اور آخر میں ایک ترغیبی نصیحت بھی ہے جو عربی نسخے میں تقدیم وتاخیر کا شکار ہے۔62
حضرت ادریس
کی اس رؤیا میں زمین پر انسانیت کی مدت کو کئی سات سات کے مجموعوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جنہیں یہاں ہفتہ (اسبوع) کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں ہفتہ سے مراد دنوں، مہینوں یا سالوں کے سات مجموعے نہیں بلکہ صدیوں کے مجموعے ہیں، کیونکہ اسبوع کو اگر سالوں کے ہفتے کے طور پر لیا جائے تو یہ بمشکل ایک انسان کی عمر (تقریباً 70 سال) کے برابر ہوں گے، جبکہ یہاں مقصود تمام انسانی نسلوں کی مدت ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہاں ہر ہفتہ (اسبوع) سے مراد سات صدیوں پر مشتمل عرصہ ہے۔ اس کے مطابق، اگر انسانی تاریخ کو 10 اسابیع تک محدود کیا جائے تو اس کی کل مدت 7 ہزار سال بنتی ہے۔
حضرت ادریس
سے منسوب اقوال کے مطابق حضرت ادریس
انسانی تاریخ کے پہلے اسبوع میں زندہ رہے۔ اور تورات کے سفرِ پیدائش (باب نمبر 5) میں موالیدِ آدم کے اعتبار سے حضرت ادریس
ساتویں پشت میں تھے، یعنی: ادریس بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم ۔ 63 یہ اسبوع نیکی اور صلاح کا دور ہے، اس میں حق اور توحید کا غلبہ رہا۔
مذکورہ بالا بشارت کے مطابق دوسرے اسبوع میں لوگوں میں فریب، جھوٹ اور تکذیب جیسی بری صفات ظاہر ہونی تھی، اور اس دور کا اختتام ایک عظیم تباہی پر ہونا تھا، تاہم ایک نیک انسان نے نجات پانا تھا، یعنی طوفانِ نوح اور حضرت نوح
کی نجات مراد ہے۔ حضرت نوح
کا ظہور انسانی تاریخ کے دوسرے ہفتے میں ہوا، یعنی حضرت آدم
کے بعد تقریباً 700 سے 1400 سال کے درمیان۔ امام حاکم حضرت ابن عباس
سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نوح آدم
کے 1000 سال بعد ظاہر ہوئے۔ 64 اس مفروضے کے مطابق، یہ بشارت نوح کے دور سے پہلے کی ہے۔ اور تمام انسانیت کی ہلاکت سوائے ایک فرد کے حضرت نوح
کی طرف واضح اشارہ ہے۔
بشارت کے مطابق تیسرے اسبوع کے اختتام پر ایک عادل و منصف انسان منتخب کیا جانا تھا جس کی نسل ابدی نیکی کا پودا بننی تھی۔ادریس
سے منسوب کلام میں ابراہیم
کی طرف صریح اشارہ موجود ہے۔ کیونکہ اہلِ اسلام اور اہلِ کتاب ، سب کے نزدیک حضرت ابراہیم
ابو الانبیاء ہیں، ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء
اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ہی کے فرزند، حضرت اسحاق
اور حضرت اسماعیل
ہیں، جن کی نسلوں سے بالترتیب بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل وجود میں آئے اور انہیں حکمت و نبوت کی نعمت عطا کی گئی۔
چوتھے اسبوع میں کے آخر میں،( یعنی حضرت ابراہیم
کے تقریباً 7 صدیاں بعد) صالحین اور نیک لوگوں کو وحی الٰہی حاصل ہونی تھی، اور انہیں قانون اور ایک مکان دیا جانا تھا جو نسل در نسل برقرار رہنا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ یہاں موسیٰ ہیں اور ان کے بعد آنے والے بنی اسرائیل کے انبیاء پر نازل ہونے والی وحی ہے۔ مؤرخین کے نزدیک ابراہیم
اور موسیٰ
کے درمیان 600 سال کا عرصہ تھا۔ مزید یہ کہ یہاں قانون سے مراد تورات، اور مکان سے مراد ارضِ مقدس یعنی فلسطین ہے۔
پانچویں اسبوع کے آخر میں بادشاہت قائم ہونی تھی اور خدا کا گھرتعمیر کیا جانا تھا، یعنی حضرت سلیمان
کی سلطنت اور ان کے دورِ حکومت میں قدس میں عبادت کے لیے ہیکل کی تعمیر، جو موسیٰ
کے تقریباً 600 سال بعد تعمیر ہوا۔
چھٹے اسبوع میں، (یعنی حضرت ابراہیم
کے تقریباً تین ادوار یا 2100 سال بعد) ظلمت چھا جانی تھی، لوگ عیش وعشرت میں مبتلا ہوکر اور حکمت و ایمان کو بھولنے والے تھے۔ تاہم، یہ دور ایک ایسے شخص کے ظہور سے ختم ہونا تھا جسے آسمان پر بلند کیا جانا تھا۔ اس سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ
ہیں، کیونکہ عیسیٰ
ہی وہ شخص ہیں جو حضرت ابراہیم
کے بعد تقریباً 2100 سال کے فاصلے پر ظاہر ہوئے اور آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ اس دور کے اختتام پر خدا کا گھر آگ سے جلا دیا جائے گا، جو 70 عیسوی میں رومی جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں بیت المقدس کی تباہی تھی۔ 65
ساتویں اسبوع میں ایک گمراہ نسل ظہور پذیر ہونی تھی، جن کے سب اعمال برے اور فاسد ہونے تھے۔ اس دور کے اختتام پر ایسے نیک افراد نمودار ہونے تھے جو حق و حقیقت کو پہچاننے والے تھے، منتخب اور ابدی انصاف کی شاخ سے پیدا ہونے والے تھے۔ ان کا ظہور واقعہ صلیب اور حضرت عیسیٰ
کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تقریباً 600 سے700 سال بعد ہونا تھا۔ یہی وہ وقت ہے جب خاتم الأنبیاء
کی بعثت ہوئی، یعنی سنہ 610ء میں، جو ساتویں اسبوع کی آخری صدی کے مطابق ہے۔ مزید یہ کہ آپ
کے صحابہ کرام
اللہ کے منتخب بندے تھے، جو حضرت ابراہیم
کی نسل، یعنی ابدی انصاف کی شاخ سے تعلق رکھتے تھے، اور انہی میں حضرت اسماعیل
کی اولاد قریش شامل تھی۔ صحابہ کرام
دینِ اسلام کے حقیقی خادم بنے، جنہوں نے اسلام کو نہ صرف جزیرہ عرب کے آخری حدود تک پہنچایا بلکہ اسی صدی میں اسلام کی روشنی جزیرہ عرب کے پار بھی پھیل گئی۔66
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت ادریس
کی طرف منسوب کتابِ اخنوخ اگرچہ اپنی موجودہ صورت میں تحریف، اختلافِ نسخ اور اہلِ کتاب کے داخلی اختلافات سے خالی نہیں، تاہم اسے کلیۃً من گھڑت یا بے اصل قرار دینا علمی طور پر درست نہیں۔ اس کتاب کی تاریخی قدامت، بحرِ میت کے مخطوطات میں اس کے اجزاء کی موجودگی، ابتدائی عیسائی علماء کا اس سے استدلال، رسالۂ یہوداہ اور رسالۂ عبرانیین میں حضرت اخنوخ
کے اقوال و احوال کا ذکر، نیز ایتھوپیائی آرتھوڈوکس کلیسا کے ہاں اس کی قانونی و الہامی حیثیت، یہ سب امور اس کے مذہبی و تاریخی وزن کو واضح کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں کتابِ اخنوخ میں وارد متعدد بشارات یعنی دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آمد، صالحین کا زمین کا وارث بننا، ابنِ انسان کا ظہور، اس کا ابتدائے آفرینش سے برگزیدہ ہونا، اور رؤیائے اسابیع میں آخری دور کے حق شناس و منتخب صالحین کا ذکر، مجموعی طور پر ایک ایسے نبی موعود کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس کی ذات، جماعت، شریعت اور عالمی اثرات حضرت محمد مصطفیٰ
کے سوا کسی اور پر کامل طور پر منطبق نہیں ہوتے۔ فتحِ مکہ میں دس ہزار صحابۂ کرام
کے ساتھ آپ
کا ظہور، امتِ محمدیہ
کا زمین پر غلبۂ حق، آپ
کا خاتم الانبیاء ہونا، آپ
کی نبوت کا ازلی انتخاب، اور صحابۂ کرام
کا علم، ایمان، عدل اور دعوتِ حق کے حامل بن کر اقوامِ عالم تک اسلام کو پہنچانا، ان تمام بشارات کی عملی اور تاریخی تکمیل ہے۔ لہٰذا کتابِ اخنوخ کی یہ بشارات سابقہ صحائف میں موجود ان دلائل کی ایک اہم کڑی ہیں جو اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ حضرت ادریس
سمیت سابقہ انبیاء کرام
کی تعلیمات میں آخری نبی حضرت محمد
کی آمد، آپ
کی مقدس جماعت، اور دینِ اسلام کے غلبہ کی بشارتیں موجود تھیں۔