حضرت ادریس
کے بعد اگلے پیغمبر حضرت نوح
ہیں۔ آپ
کی شان و عظمت صرف اہلِ اسلام اور اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ہی معروف نہیں، بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان میں بھی آپ
کی بلند پایہ شخصیت اور روحانی مقام کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اہلِ ہنود کی کتب میں حضرت نوح
کو "منو" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔رگ وید میں ہے : منو نے اگنی تجھے ایک روشنی انسانوں کی تمام نسلوں کے لئے قائم کیا۔1 منو کا لفظ بہت سی ہندو مذہبی شخصیات کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن پُرانوں، ویدوں اور دیگر ہندو مذہبی کتب سب سے زیادہ تفصیل سے جس منو کا تذکرہ کرتی ہیں وہ حضرت نوح
ہی ہیں۔ 2 ایک فرانسیسی محقق لکھتے ہیں کہ ہندو قوم مہانوو (Mahanuvu) نام کی ایک مشہور شخصیت سے بہت عقیدت رکھتی ہے جو ان کے نزدیک سیلاب کے بعد سات مشہور رشیوں کے ساتھ ایک کشتی کے ذریعے بچ نکلے تھے۔ اور مہانوو دو لفظوں سے مرکب ہے: ایک "مہا" یعنی عظیم اور دوسرا "نوو"، جو لفظ "نوح" کے مترادف ہے۔3
حضرت نوح
کے احوال، واقعات، اور دعوت و تبلیغ کا ذکر تقریباً تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے۔ تاہم، آپ
کی تعلیمات و ارشادات کسی مخصوص صحیفے یا تحریری متن کی صورت میں محفوظ نہیں ہیں۔ اگرچہ بعض اہلِ علم کے نزدیک حضرت نوح
پر دو صحیفے نازل ہوئے تھے، ایک طوفان سے قبل ، اور ایک طوفان کےبعد۔ 4 لیکن یہ صحائف زمانے کی گردش میں گم ہو چکے ہیں اور اب ناپید ہیں۔ اسی لیے جو بشارات آپ
نے رسول اللہ
کی آمد کے متعلق دی ہیں، وہ دیگر الہامی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔
تورات میں حضرت نوح
کے واقعات کے ضمن میں یہ بیان ملتاہے کہ اللہ تعالی نے آپ
پر وحی نازل فرمائی جو در اصل آئندہ زمانوں سے متعلق ایک اہم پیش گوئی پرمشتمل ہے۔ چنانچہ سفر پیدائش میں ہے:
وكلم اللّٰه نوحا وبنيه معه قائلا: وها أنا مقيم ميثاقي معكم ومع نسلكم من بعدكم، ومع كل ذوات الأنفس الحية التي معكم، الطيور والبهائم وكل وحوش الأرض التي معكم، من جميع الخارجين من الفلك حتى كل حيوان الأرض. أقيم ميثاقي معكم فلا ينقرض كل ذي جسد أيضا بمياه الطوفان، ولا يكون أيضا طوفان ليخرب الأرض. وقال اللّٰه: هذه علامة الميثاق الذي أنا واضعه بيني وبينكم، وبين كل ذوات الأنفس الحية التي معكم إلى أجيال الدهر، وضعت قوسي في السحاب فتكون علامة ميثاق بيني وبين الأرض. 5
اور اللہ تعالیٰ نے نوح ()اور ان کے بیٹوں سے فرمایا: دیکھو! میں تمہارے ساتھ اور تمہاری نسل کے ساتھ جو تمہارے بعد آئے گی، ایک عہد قائم کرتا ہوں، اور ان تمام جانداروں کے ساتھ بھی جو تمہارے ساتھ ہیں، پرندوں، چوپایوں اور زمین کے سب وحشی جانوروں کے ساتھ، یعنی ان سب کے ساتھ جو کشتی سے نکلے، حتی کہ زمین کے تمام جانداروں کے ساتھ۔ میں اپنا وعدہ کرتا ہوں کہ اب کبھی بھی تمام جاندار طوفانی پانی سے ہلاک نہ کیے جائیں گے، اور نہ ہی اب ایسا طوفان آئے گا جو زمین کو تباہ کر دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس عہد کی نشانی جو میں اپنے اور تمہارے درمیان، اور تمہارے ساتھ موجود ہر جاندار کے درمیان، آنے والی نسلوں کے لیے قائم کرتا ہوں یہ ہوگی کہ میں نے اپنی قوس (قوسِ قزح) بادلوں میں رکھ دی ہے، اور وہ میرے اور زمین کے درمیان اس عہد کی نشانی ہوگی۔
بظاہر مذکورہ عبارت ایک وحی کی صورت میں حضرت نوح
پر نازل ہوئی، جس کا ذکر سفرِ تکوین(پیدائش) میں ملتا ہے۔ اگرچہ اس بیان میں کسی صریح بشارت یانبی موعود کے الفاظ موجود نہیں، تاہم مسیحی مفسرین نے اسے ایک بشارت کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ ان کے نزدیک اس وحی میں مستقبل کے کسی عظیم واقعے یا نجات دہندہ کی طرف اشارہ مضمر ہے۔ عیسائی علما ء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے طوفانِ نوح کے بعد انسانیت سے یہ وعدہ فرمایا کہ اب زمین پر بسنے والی مخلوقات کو کسی عالمگیر آفت کے ذریعے ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ خدا کو انسانی فطرت اور اس کی گناہوں کی طرف مائل طبیعت کا علم ہے، تاہم اس نے اپنی رحمت کے تحت یہ عہد برقرار رکھا کہ پوری انسانیت کو دوبارہ کسی تباہ کن آفت سے نیست و نابود نہیں کیا جائے گا۔ ان کے عقیدے کے مطابق، یہ عہدِ الٰہی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالی انسان کی فطرت میں تبدیلی پیدا کرے گا اور گناہوں کے باوجود ان کی معافی کے لیے ایک نجات دہندہ بھیجے گا جس کے ذریعے ان کے گناہوں کو معاف کیا جائے گا۔ عیسائیوں کے نزدیک یہ وعدہ حضرت عیسیٰ
کی بعثت اور قربانی کے ذریعے پورا ہوا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کے گناہ معاف کر دیے گئے۔ مزید یہ کہ قوسِ قزح کو اس عہد کی علامت قرار دیا گیا کہ زمین دوبارہ طوفان سے تباہ نہیں کی جائے گی۔ بعد کے زمانوں میں اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور وعدے کی یاد دہانی کے طور پر دیکھا جانے لگا ۔6
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عہد الہی کا سبب ہرگز یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کو بدل دیا یا اس کے گناہوں کو حضرت عیسیٰ
کی قربانی کے عوض معاف کر دیا۔ ایسا کوئی سبب نہ کتبِ سابقہ میں مذکور ہے اور نہ ہی نفس الامر میں انسانی طبیعت کے اندر ایسی کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی ہے جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکے۔ بلکہ نظامِ عالم کو قیامت سے پہلے کسی عالمگیر آفت سے درہم برہم نہ کرنا دراصل ان مقاصد کے تحت ہے جن کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا فرمایا ہے، اور من جملہ ان مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے جس کا اظہار اللہ تعالی نے حضرت آدم
کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے آدم
! اگر محمد(
) نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔ 7 اس مقصد کا بیان محض احادیثِ نبویہ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ذکر انجیلِ برناباس میں بھی وارد ہے۔ وہاں یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ جب حضرت آدم
کو وجود بخشا گیا، اور انہوں نے قوائم عرش پر "محمد رسول اللہ(
)" لکھا ہوا دیکھا تو ان کے دل میں محمدِ مصطفیٰ
کے نورِ اقدس کے بارے میں شوق و تجسس پیدا ہوا۔ انجیل برناباس کے مطابق اس وقت ربِ کریم نے حضرت آدم
سے مخاطب ہو کرفرمایا:
مرحبا بك يا عبدي آدم، وإني أقول لك: إنك أول إنسان خلقت، وهذا الذي رأيته إنما هو ابنك الذي سيأتي إلى العالم بعد الآن بسنين عديدة، وسيكون رسولي الذي لأجله خلقت كل الأشياء، الذي متى جاء سيعطي نورا للعالم، الذي كانت نفسه موضوعة في بهاء سماوي ستين ألف سنة قبل أن أخلق شيئا. 43
مرحبا ہے تجھ کو اے میرے بندے آدم!میں تجھ سے کہتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جسے میں نے پیدا کیا۔ اور یہ جس کو تم نے دیکھا تیرا بیٹا ہے جو اس وقت سے بہت سے سال بعد دنیا میں آئے گا۔ اوروہ میرا ایسا رسول ہوگا، جس کے لیے میں نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں۔اور وہ رسول جب آئے گا تو دنیا کو نور بخشے گا۔ یہ وہ نبی ہے کہ اس کی روح آسمانی روشنی میں 60 ہزار سال قبل اس کے رکھی گئی تھی کہ میں کسی چیز کو پیدا کروں۔
طوفانِ نوح کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ عہد کہ نوعِ انسانی دوبارہ کسی عالمگیر آفت سے نیست و نابود نہیں ہوگی، درحقیقت یہ عہد اس عظیم مقصد کے مطابق ہے جس کے لیے کائنات کو پیدا کیا گیا،اور جو آخرکار حضور نبی اکرم
کی بعثت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہی تصور اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ نظامِ عالم کی بقا دراصل اس الٰہی منصوبے کا حصہ تھی جو بعثتِ نبوی
پر منتج ہونا تھا۔ذیل میں ا س بات کےدلائل پیش کیے جاتے ہیں کہ اس عہد الٰہی کا سبب رسول اللہ
کی ذات اقدس ہی ہے۔
اس عہدِ الٰہی کا ذکر یسعیاہ
کی کتاب میں وارد ہے ۔ چنانچہ یسعیاہ
فرماتے ہیں:
بفيضان الغضب حجبت وجهي عنكِ لحظةً، وبإحسان أبدي أرحمكِ، قال وليك الرب۔ لأنه كمياه نوح هذه لي، كما حلفت أن لا تعبر بعد مياه نوح على الأرض، هكذاحلفت أن لا أغضب عليكِ ولاأزجركِ.9
غصے کی حالت میں، میں نے ایک لمحے کے لیے اپنا چہرہ تم سے چھپا لیا، لیکن ابدی احسان کے ساتھ میں تم پر رحم کروں گا، تمہارا رب فرماتا ہے۔ کیونکہ یہ میرے لیے نوح () کے دنوں کی مانند ہے؛ جس طرح میں نے قسم کھائی تھی کہ نوح (
) کا سا طوفان دوبارہ زمین پر نہیں آئے گا، اسی طرح میں نے یہ بھی قسم کھائی ہے کہ میں تم پر نہ غضب ناک ہوں گا اور نہ تمہیں ملامت کروں گا۔
اس آیت کے سیاق وسباق کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکار ہوتی ہے کہ یہ بشارت ِ محمدی
ہے، جس کے ضمن میں نوح
کےساتھ کیے ہوئے عہدِ الٰہی کا بھی ذکر آیا ہے۔ چنانچہ اس باب کی پہلی آیت میں ہے:
اے بانجھ عورت، تو جو بے اولاد رہی ، گیت گا؛ تو جسے کبھی دردِ زہ نہ ہوا، نغمہ سرائی کراور خوشی سے للکار، کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ چھوڑی ہوئی عورت کی اولاد شوہر والی کی اولاد سے زیادہ ہوگی۔ 10
اردو نسخے میں بانجھ کے ساتھ لفظ "عورت" کا اضافہ کیا گیاہے، حالانکہ عربی سمیت دیگر نسخوں میں صرف لفظ عاقر(بانجھ) آیا ہے۔ 11 اس آیت میں بانجھ سے مراد مکہ مکرمہ ہے ، اس لیے کہ مکہ میں اسماعیل
کے بعد نہ کوئی نبی مبعوث ہوا اور نہ ہی وحی نازل ہوئی،برخلاف یروشلم (بیت المقدس) کے، کیونکہ وہاں بکثرت انبیاء
مبعوث ہوئے اور وحی کا نزول بھی کثرت سے ہوتا رہا۔ اور چھوڑی ہوئی عورت سے مراد ہاجرہ
ہے، کیونکہ وہ گھر سے جدا ہوکر بیابان میں سکونت پذیر ہوئی جبکہ شوہر والی سے مراد سارہ
ہے۔ 12
اللہ تعالیٰ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے اسے تسبیح، تہلیل اور شکر کے نغمے بلند کرنے کا حکم دیا، اس لیے کہ حضرت ہاجرہ
کی اولاد میں سے بہت سے لوگ حضرت سارہ
کی اولاد سے بڑھ کر فضیلت والے ثابت ہوئے۔ چنانچہ اہلِ مکہ کی فضیلت کے باعث خود مکہ کو بھی فضیلت حاصل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا کہ اسی سرزمین سے حضرت محمد
کو مبعوث کیا، جو تمام انسانوں میں افضل اور خاتم النبیین ہیں، اور حضرت ہاجرہ
کی اولاد میں سے ہیں۔ یہی وہ ہستی ہیں جن کی طرف اس باب میں "آگ دہکانے والے سنار اور مشرکین کو ہلاک کرنے والے" کے استعارے سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم
کی بدولت مکہ کو وہ عظمت حاصل ہوئی جو دنیا کے کسی اور عبادت گاہ کو نصیب نہیں ہوئی۔ اور ان شاء اللہ یہ عظمت مکہ کو قیامت تک حاصل رہے گی۔13
چنانچہ اگر یہاں مکہ مکرمہ کی دائمی فضیلت کا سرچشمہ وجودِ محمدی
ہے،اور آپ
ہی کی بدولت اس کی عظمت قیامت تک باقی رہنے والی ہے، پھر اسی فضیلت و عظمت کے ضمن میں حضرت نوح
سے کیے گئے وعدۂ الٰہی کا ذکر بھی صریح طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس دنیا میں بڑی آفت کا نہ آنا بھی بعثتِ محمدی
ہی کی بدولت ہے۔
سفرِ یسعیاہ
میں اگرچہ طوفان کے دوبارہ نہ آنے کا سبب بعثتِ محمدی
صراحت کے ساتھ مذکور نہیں، بلکہ اشارے اور کنایے کے انداز میں بیان ہوا ہے، تاہم کتابِ اخنوخ (ادریس
) میں یہ حقیقت نہایت واضح اور صریح انداز میں بیان کی گئی ہے کہ عالمگیر طوفان کے نہ آنے کا اصل سبب بعثتِ محمدی
ہی ہے۔ چنانچہ کتابِ اخنوخ
میں طوفان کے تذکرے کے بعد اس عہد کاذ کر یوں وارد ہے:
وأقسم باسمه العظيم: منذ الآن لن أعمل هكذا مع العائشين على اليابسة، فأضع علامة في السماء فتكون بيني وبينهم أمانة أبدية على مر أيام السماء على الأرض بحسب أمري۔ في الماضي طلبت أن أحميهم بيد الملائكة في يوم ضيق والألم، والآن أقيم عليهم عقابي وغضبي۔ يقول رب الأرواح: فيا أيها الملوك المقتدرون الساكنون على اليابسة، سترون مختارا جالسا على عرش المجد، فيدين عزازيل وكل رفقته وكل جوقته باسم رب الأرواح.14
اوراللہ تعالی نے اپنے عظیم نام کی قسم اٹھائی کہ اب سے زمین پر بسنے والوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کروں گا۔ میں آسمان میں ایک نشانی رکھوں گا جو میرے اور ان کے درمیان ایک دائمی امانت ہوگی،جب تک زمین اورآسمان کی گردشِ ایام میرے حکم کے مطابق قائم رہے گی۔ ماضی میں میں نے حکم دیا تھا کہ مصیبت اور تکلیف کےوقت فرشتوں کے ذریعےمیں ان کی حفاظت کروں گا، مگر اب میں ان پر اپنا انصاف اور اپنا عتاب قائم کروں گا۔ ربّ الارواح فرماتا ہے: اے زمین پر اقتدار رکھنے والے بادشاہو! تم جلالی تخت پر بیٹھا ہوا برگزیدہ (مختار) دیکھو گے، جوعزازیل اور اس کے تمام ساتھیوں اور لشکروں پر ربّ الارواح کے نام سے فیصلہ صادر کرے گا۔
جلالی تخت پر جلوہ افروز ہونے والی ہستی کا مصداق درحقیقت محمد
ہی ہیں۔ اور بائبل کی بشارات میں انہی الفاظ کے ذریعے آپ
کی آمد کی پیشین گوئی بیان کی گئی ہے۔ انجیل متی میں ہےکہ مسیح
نے سردار کاہن کو جواب دیا:
تو نے اپنی بات کہہ دی ، اب میں بھی تمہیں بتاتا ہوں کہ آئندہ تم ابنِ آدم کو قادر مطلق کی دائیں طرف بیٹھا اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے۔15
اردو مترجمین نے یہاں ابن ِآدم لکھا ہے جبکہ عربی مترجمین ابن الإنسان لکھتے ہیں۔16 کنگ جیمز ورژن (KJV) میں بھی (Son of the Man) سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ 17 اس جیسی بشارات میں عیسائی علماء نے تحریف کر کے اصل عبارات اور متون کو تبدیل کردیا، جس کی دلیل یہ ہے کہ اسی انجیل متی میں یہ بھی ہے:
یسوع (
) نے پطرس کو جواب دیا کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ نئی تخلیق میں ابن آدم (ابن انسان) اپنے جلالی تخت پر بیٹھے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے چلے آئے ہو 12تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے 12 قبیلوں کا انصاف کروگے۔18
اس بشارت میں تحریف کی واضح دلیل یہ ہے کہ عیسائی حضرات نے حضرت عیسیٰ
کی طرف یہ بات بھی منسوب کردی کہ انہوں نے اپنے 12 حواریوں کے لیے کامیابی، نجات، اور 12 تختوں پر بیٹھنے کی بشارت دی تھی، حالانکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے، کیونکہ عیسائیوں کے نزدیک ان 12 میں سے ایک یہوداہ اسخریوطی مرتد ہو کر حالتِ کفر میں ہلاک ہوا۔ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ وہ 12 تختوں میں سے بارہویں تخت پر بیٹھنے کا مستحق ہو۔19
الغرض، طوفانِ نوح کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس عہد(طوفانِ نوح کے بعد کُل انسانیت پر دوبارہ ایسی عالمگیر آفت نہیں آئے گی) میں یہ پیشین گوئی مضمر تھی کہ انسانیت کا سلسلہ دوبارہ حضرت نوح
سے جاری ہوگا، اور انہی کی مقدس نسل سے ایک برگزیدہ نبی، حضرت محمد
، سراپا رحمت و ہدایت بن کر مبعوث ہوں گے۔
عیسائی حضرات یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ وعدہ حضرت عیسیٰ
کی بعثت اور قربانی کے ذریعے پورا ہوا، جس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں کے گناہ معاف کر دیے گئے۔ اسی طرح قوسِ قزح رحمتِ خداوندی اور عہد الہی کی یاد دہانی کی علامت ہےاور رحمتِ خداوندی کی صورت میں حضرت عیسیٰ
کا ظہور ہوا۔ 20 اگر ان کے اس دعوے کو ایک لمحے کے لیے تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی اللہ تعالی نے بائبل یا کہیں اور بھی حضرت عیسیٰ
پر رحمتِ خداوندی ہونے کا اطلاق نہیں فرمایا ہے جبکہ رسول اللہ
کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن کریم میں صراحتاً یہ فرمادیا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ10721
اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر۔
اور آپ
کے رحمت ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی کو یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ آپ
کے ہوتے ہوئے کسی ظالم اور کافر قوم پر بھی عذاب مسلط کردے۔ ارشاد خداوندی ہے:
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ... 3322
اور (درحقیقت بات یہ ہے کہ) اللہ کو یہ شان نہیں دیتا کہ ان پر عذاب فرمائے درآنحالیکہ (اے حبیبِ مکرّم!) آپ بھی ان میں (موجود) ہوں۔۔۔
کتابِ اخنوخ (حضرت ادریس
سے منسوب قدیم صحیفہ) میں حضرت نوح
کے ایک تفصیلی خواب کا ذکر ملتا ہے۔ اس خواب میں آپ
نے ایک برگزیدہ ہستی (حضرت محمد مصطفی
)کی آمد کی بشارت دی، جنہیں اللہ تعالیٰ جلالی تخت پر بٹھائے گا۔چنانچہ کتاب اخنوخ (
) کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:
وهذا أمر الرب إلى الملوك والمقتدرين، إلى العظماء وسكان الأرض: افتحوا عيونكم،ارفعوا رؤوسكم، هل تقدرون أن تعرفوا المختار؟ أجلسه رب الأرواح على عرش مجده، ففاض عليه روح البر، وأمات قول فمه كل الخطأة، وجميع الأشرار يهلكون أمام وجهه. في ذلك اليوم يقف الملوك جميعهم والمقتدرون والعظماء وأسياد الأرض، يرونه ويعلمون أنه يجلس على عرش مجده، أمامه تتلى الأحكام، ولا تلفظ كلمة باطلة أمامه. يحل بهم عذاب كعذاب امرأة في المخاض حين يأتي الطلق وتتعب لكي تلد. نصفهم ينظر إلى النصف الآخر، فيرتج عليهم، ويخفضون الرؤوس من العذاب حين يرون ابن الإنسان هذا يجلس على عرش مجده. الملوك والمقتدرون وكل أسياد الأرض يباركون ويمجدون ويعظمون القابض على جميع الأسرار. فمنذ البدء ظل ابن الإنسان مخفيا، احتفظ به العلي داخل قدرته، ولكنه أعلنه للمختارين. تزرع جماعة المختارين والقديسين، ويقف أمامه في ذلك اليوم كل المختارين.23
اور یہ رب کا حکم ہے بادشاہوں، طاقتوروں،سرداروں اور زمین کے رہنے والوں کے نام: اپنی آنکھیں کھولو! اپنے سر اٹھاؤ! کیا تم اس برگزیدہ کو پہچان سکتے ہو؟ ربّ الارواح نے اسے اپنے جلال کے تخت پر بٹھا دیا ہے۔ اور اس پر نیکی کی روح نازل کی، اور اس کے منہ کے کلام سے سب گناہگار ہلاک ہوں گے، تمام بدکار اس کے سامنے فنا ہو جائیں گے۔ اس دن سب بادشاہ، حکمران، سردار اور زمین کے بڑے لوگ اس کو دیکھیں گے، اور جان لیں گے کہ وہ جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اس کے حضور فیصلے سنائے جائیں گے، اور اس کے سامنے کوئی باطل بات زبان پر نہ لا سکے گا۔ ان پر عذاب اس طرح نازل ہوگا جیسے دردِ زِہ میں مبتلا عورت پر ہوتا ہے، جب درد آتا ہے اور وہ سخت مشقت میں ہوتی ہے۔ ان میں سے آدھے ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے، حیرت و دہشت سے گونگے ہو جائیں گے، اور جب وہ اس ابنِ انسان کو جلال کے تخت پر بیٹھا دیکھیں گے تو درد و خوف سے اپنے سر جھکا لیں گے۔ تب تمام بادشاہ، زورآور اور اہلِ زمین تسبیح بیان کریں گے اور تمجید و تعظیم کریں گے اس ذات کی جو تمام رازوں کا مالک ہے۔ کیونکہ ابتدا ہی سے ابنِ انسان پوشیدہ رکھا گیا تھا، اس کو خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اندر محفوظ رکھا، پھر وقتِ مقرر پر اسے برگزیدوں پر ظاہر کیا۔ اور اس دن برگزیدہ اور مقدس جماعت بوئی جائے گی (یعنی قائم ہوگی)، اور سب منتخب لوگ اس کے حضور کھڑے ہوں گے۔
حضرت دانیال
کا خواب بھی اسی بشارت کی تائید کرتا ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ:
میں نے اپنی رات کی رؤیا میں دیکھا کہ ابنِ انسان کی مانند کوئی شخص آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا، وہ قدیم الایام ہستی (خدا) کی جانب بڑھا او ر اسے اس کے حضور میں پیش کیا گیا۔اسے اختیار، جلال اور اعلی اقتدار بخشا گیا، تمام لوگوں ،قوموں اور ہر زبان کے بولنے والے لوگوں نے اسے سجدہ کیا۔ اس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ اور اس کی بادشاہی ایسی ہے جسے کبھی زوال نہ آئے گا۔ 24
حضرت نوح
اور دانیال
کے خواب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں،ایک ایسی برگزیدہ ہستی کی آمد، جن کی بشارت قدیم صحیفوں میں دی گئی، جنہیں اللہ تعالی جلالی تخت پر بٹھا دے گااور جن کے سامنے تمام اقوام عالم سر تسلیم خم کریں گے اور جس کی سلطنت ابدی ہوگی، اور وہ ہستی حضور پرنور حضر ت محمد مصطفی
ہیں۔
رسولِ اکرم
کےرؤیا نوح میں مذکور بشارت کے حقیقی مصداق ہونے کی پہلی دلیل یہ ہے کہ کتابِ اخنوخ (
)میں اس کے فوراً بعد قیامت کے دن کے مناظر کا بیان آتا ہے کہ تمام بادشاہ، طاقتور، سردار اور زمین کے حاکم اس (رب)کے سامنے منہ کے بل گر پڑیں گے، اور اپنی امید اسی ابنِ انسان سے لگائے رکھیں گے، اس سےوسیلہ اور التجا کریں گے اور رحم و عنایت کو طلب کریں گے۔ 25 اوربخاری کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جب تمام لوگ بے قرار ی اورپریشانی کی حالت میں ہوں گے تو حضرت آدم
سے لے کر حضرت عیسی
تک ایک ایک نبی کےپاس جاکر لوگ سفارش طلب کریں گے لیکن نفسا نفسی کے عالم میں کوئی سفارش نہیں کر سکے گایہاں تک کہ حضرت عیسی
لوگوں سے فرمائیں گےکہ محمد (
) کے پاس جاؤ۔ سب لوگ نبی کریم
کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے محمد (
) ! آپ
اللہ کے رسول اور سب سے آخری پیغمبر ہیں ، اپنے رب کے دربار میں ہماری شفاعت کیجئے۔ اور پھر رسول اللہ
عرش الہی کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے اور سفارش کریں اور آپ
کی سفارش قبول کی جائے گی۔ 26
دوسری دلیل یہ ہے کہ کتابِ اخنوخ کی یہ بشارت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس برگزیدہ ابنِ انسان کو جلال کے تخت پر متمکن فرمائے گا، اور اس کے سامنے تمام بادشاہ، سردار اور زورآور لوگ عاجز و بے بس ہو جائیں گے۔ اس کی بادشاہت ابدی اور غیر فانی ہوگی۔اور یہی مفہوم مذکورہ بالا رؤیا دانیال میں بھی بیان ہوا ہے، جس کا ترجمہ عربی بائبل میں یوں ہے :
...سلطانه سلطان أبدي ما لن يزول، وملكوته ما لا ينقرض. 27
اس کی سلطنت ایسی ابدی سلطنت ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی، اور اس کی بادشاہت پر کبھی زوال نہ آئے گا۔
اس ابدی سلطنت اور ہمیشہ کی بادشاہت سے مراد کوئی ظاہری یا دنیوی حکومت نہیں، بلکہ وہ شرعی اقتدار اور نظام اسلامی ہے جو شریعتِ محمدی
کی صورت میں ظاہر ہوا، اورجو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے ہدایت، نظامِ عدل، اور دینِ حق کے طور پر برقرار رہے گی۔ 28 ذیل میں انجیل مقدس کے چند اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں جن سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اس ابدی سلطنت سے مراد صرف اور صرف شریعت محمدی
ہے۔ انجیل متی میں ہے:
ان دنوں یوحنا (حضرت یحیی علیہ السلام ) بپتسمہ دینے والا آیا اور یہودیہ کے بیابان میں جاکر منادی کرنے لگا کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی جلد ہی قائم ہونے والی ہے۔29
پھر اسی انجیل متی میں ہے:
اس وقت سے یسوع ( علیہ السلام) نے یہ منادی شروع کردی کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی جلد ہی قائم ہونے والی ہے۔ 30
اور انجیل لوقا میں ہے:
یسوع (علیہ السلام) نے اپنے 12 شاگردوں کو بلایا اور انہیں قدرت اور اختیار بخشا کہ ساری بد روحوں کو نکالیں اور بیماریوں کو دور کریں۔ اور انہیں روانہ کیا تاکہ وہ خدا کی بادشاہی کی منادی کریں۔31
پھر اسی انجیل لوقا میں ہے:
اس کے بعد خداوند (مسیح ) نے 72شاگرد اور مقرر کیے اور انہیں دو دو کر کے شہروں اور قصبوں میں روانہ کیا 32اور ان سے فرمایا کہ جس شہر میں داخل ہو اور اس شہر والے تمہیں قبول کر یں تو جو کچھ تمہارے سامنے رکھا جائے اسے کھاؤ، گھر میں جو لوگ بیمار ہوں انہیں شفا دو اور بتاؤ کہ خدا کی بادشاہی تمہارے نزدیک آپہنچی ہے۔33
یعنی پہلے حضرت یحییٰ
اور حضرت عیسیٰ
نے ابدی سلطنت اور آسمانی بادشاہت کےقیام کی بشارت دی، پھر حضرت عیسی
نے اپنے 12 حواریوں کو اور 72 شاگردوں کو بھی یہ بتلایا کہ تم بھی لوگوں میں اس بشارت کو عام کر و کہ آسمانی بادشاہت عنقریب ظاہر ہونے والی ہے۔اگر سلطنت ابدی یا آسمانی بادشاہت سے مراد شریعت عیسوی ہوتی تو پھر خدا کے یہ مقدس انبیاء
اور نیک بندے یہ پیشین گوئی ہرگز نہ فرماتے کہ آسمانی بادشاہت عنقریب قائم ہونے والی ہےکیونکہ وہ شریعت تو ان کے زمانے میں ان کی آمد کے ساتھ پہلے ہی ظاہر ہو چکی تھی۔لہذا آسمانی بادشاہت در اصل وہی نظام الہی ہے جو شریعت محمدی
کی صورت میں ظاہر ہوا۔34
رسولِ اکرم
کےرؤیا نوح میں مذکور بشارت کے حقیقی مصداق ہونے کی تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت نوح
کے رؤیا اور حضرت دانیال
کے رؤیا میں یہ بات مشترک ہے کہ اس برگزیدہ ابنِ انسان کے سامنے تمام بادشاہ، طاقتور اور سردار قومیں سرتسلیم خم کریں گی، اور اللہ تعالیٰ کے اس برگزیدہ بندے کو بادشاہی عطا کی جائے گی، مگر یہ بادشاہی عاجزی یا کمزوری کی نہیں، بلکہ تسلط اور غلبے کی صورت میں ہوگی۔ اور یہ امر مسلّم ہے کہ حضرت عیسیٰ
کی بعثتِ اولی میں جہاد مشروع نہیں تھا، نہ آپ کوقتال کا حکم دیا گیا، اور نہ ہی انہوں نے اپنے پیروکاروں کو اس کی ترغیب دی تھی۔ اس کے برعکس رسولِ اکرم
وہ مجاہد نبی ہیں جن کی شریعت میں جہاد کو فرض قرار دیا گیا۔ آپ
نے اللہ کے راستے میں قتال فرمایا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ
کو زمین پر غلبہ و تسلط عطا فرمایا، اور اسی شریعتِ محمدی
کو جہاد اور عدل کے ذریعے ابدی سلطنت اور آخری الٰہی نظام کے طور پر قائم فرمایا۔
اس دلیل کے تناظر میں جب عیسائی علماء حضرت عیسیٰ
کو اس بشارت کا حقیقی مصداق ثابت نہ کر سکے تو انہوں نے یہ تاویل پیش کی کہ حضرت دانیال
کی پیش گوئی دراصل حضرت مسیح
کی دو بعثتوں کے بارے میں ہے۔ 35 لیکن یہ تاویل نہایت ضعیف اور سطحی ہے، جسے کوئی ذی عقل قبول نہیں کرسکتا۔ کیونکہ حضرت دانیال
نے اپنے خواب میں ایک ہی شخصیت کو دیکھا ہے اور اسی ایک برگزیدہ ہستی کی بعثت سے متعلق بشارت دی ہے۔ اب اگر مذکورہ بالا دلیل کی روشنی میں یہ ثابت ہو چکا کہ اس بشارت سے حضرت عیسیٰ
کی بعثتِ اولی مراد نہیں لی جا سکتی، تو پھر بعثتِ ثانیہ مراد لینا بدرجہ اولی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ دو بعثتوں کا تصور اختیار کیا جائے۔
یہ تحقیقی جائزہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حضرت نوح
سے متعلق الٰہی عہد محض طوفانِ نوح کے بعد نوعِ انسانی کی بقا کا اعلان نہیں تھا، بلکہ اس کے اندر مستقبل کی ایک عظیم نبوی حقیقت بھی مضمر تھی۔ تورات میں قوسِ قزح کو جس عہدِ رحمت کی علامت قرار دیا گیا، یسعیاہ، کتابِ اخنوخ اور دانیال
کی بشارات کے تناظر میں وہی عہد بتدریج ایک ایسی برگزیدہ ہستی کی آمد کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے ربّ الارواح جلالی مقام عطا فرمائے گا، جس کے سامنے اقوامِ عالم سر تسلیم خم کریں گی، اور جس کی شریعت ابدی نظامِ ہدایت کے طور پر باقی رہے گی۔ عیسائی تعبیرات اگرچہ اس عہد کو حضرت عیسیٰ
کی بعثت اور قربانی سے وابستہ کرتی ہیں، تاہم قرآنی تصریحات، ختمِ نبوت، شفاعتِ کبریٰ، شریعتِ محمدی
کی عالمگیریت، اور سابقہ صحائف کے اشارات اس امر کو زیادہ قوی بناتے ہیں کہ اس بشارت کا حقیقی مصداق سیدنا محمد مصطفیٰ
ہیں۔ اس اعتبار سے حضرت نوح
کا عہدِ الٰہی، کتابِ اخنوخ کا "مختار"، دانیال کا "ابنِ انسان"، اور انجیل میں مذکور "آسمانی بادشاہت" سب ایک ہی مرکزی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: یعنی بعثتِ محمدی
، جو عالمِ انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت، عدل اور آخری الٰہی نظام کی تکمیل ہے۔