encyclopedia

تعارفِ حضرت سلیمان علیہ السلام

Published on: 16-Jun-2026

سلیمان عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے امن وسلامتی والا ۔ 1 حضرت سلیمان Alaihis Salam اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اورحضرت داؤد Alaihis Salam کے فرزند تھے۔ آپ Alaihis Salam کا نسب سلیمان بن داؤد بن ايشا بن حصرون بن عموم بن ناہب بن لاوی بن یہوداہ بن يعقوب بن اسحاق بن ابراہیمAlaihmus Salam تھا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam میں ذکاوت اور فصل مقدمات میں اصابت رائے کا کمال شروع ہی سے ودیعت کر دیا تھا۔ 3 اسفارِ تورات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان Alaihis Salam کو ریت کے ذرّوں کی کثرت کی مانند حکمت، شعور اور قوتِ امتیاز عطا فرمائی تھی۔ آپ Alaihis Salam ہی کو اپنے دور میں سب سے زیادہ عقلمند اور سمجھدار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ 4 یہی وجہ ہے کہ حضرت داؤد Alaihis Salam نے آپ Alaihis Salam کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ 5 حضرت داؤد Alaihis Salam کی زندگی کے آخری ایام میں ادونیا بن داؤد نے تخت بادشاہت پر قبضے کی کوشش کی، مگرحضرت سلیمان Alaihis Salam کی طاقت وقوت سے خوفزدہ ہو کر اس نے بھی سرِ تسلیم خم کردیا۔ 6 حضرت داؤد Alaihis Salam نے 40 برس تک عدل و انصاف کے تاج کو سر پر سجائے رکھا۔ جب وہ دنیا سے رحلت فرما گئے تو تختِ داؤد پر ان کے فرزندِارجمند سلیمان کی حکومت کے سنہرے باب کا آغاز ہوا۔ 7

حضرت سلیمان Alaihis Salam کی زندگی

حضرت سلیمان Alaihis Salam ایک ہی وقت میں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ آپ Alaihis Salam کو اپنے والد داؤد Alaihis Salam سے وراثت میں نبوت اور بادشاہت دونوں چیزیں ملی تھیں۔ 8 حضرت سلیمان Alaihis Salam نے تخت اور حکومت کو مضبوط کرنے کے بعد مصر کے بادشاہ، فرعون کے ساتھ اتحاد کیا اور اس کی بیٹی سےشادی کر لی۔ 9 علمائے یہود کے نزدیک جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم Alaihis Salam کے ساتھ فرمایا تھا کہ میں دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین پر تیری نسل کی حکومت قائم کروں گا، 10 یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان Alaihis Salam کے دور میں پورا فرمایا۔ 11 قرآن کریم کے مطابق، سلیمان Alaihis Salam نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو۔ 12 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان Alaihis Salam کی دعا قبول فرمائی اور آپ Alaihis Salam سے فرمایا: میں تجھے ایسا عقلمند اور سمجھنے والا دل عطا کروں گا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تجھ سےپہلے ہوا نہ کوئی تجھ سا تیرے بعد برپا ہوگا۔ علاوہ ازیں میں تجھے وہ بھی عطا کروں گا جو تو نے نہیں مانگایعنی دولت اور عزت، ایسا کہ تیرے ہم عصر بادشاہوں میں کوئی بھی تیرے برابر نہ ہوگا۔ 13 اسی لیے آپ Alaihis Salam کی حکومت صرف انسانوں پر ہی نہ تھی بلکہ جنات، شیاطین اور دیگر مخلوقات بھی آپ Alaihis Salam کے تابع تھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ 15 وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَاأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ 16وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ 1714
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (Alaihmas Salam ) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔ اور سلیمان (Alaihis Salam )، داؤد (Alaihis Salam ) کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی (بھی) سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ بیشک یہ (اللہ کا) واضح فضل ہے۔ اور سلیمان (Alaihis Salam ) کے لیے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کیے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھے۔

حضرت سلیمان Alaihis Salam کے دورِ حکومت میں یمن کے علاقہ میں بلقیس نامی خاتون قوم سبأ کی ملکہ تھی۔ ایک دن حضرت سلیمان Alaihis Salam نے اپنے لشکر کا جائز ہ لیا، جس میں تمام جن وانس، وچرندو پرند اپنی اپنی جگہوں پر موجود تھے، مگر ہُدہُد غیر حاضر تھا۔ آپ Alaihis Salam نے فرمایا کہ اگر اس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتائی تو سخت سزا پائے گا۔ اس دوران ہُدہُد آیا اور بتایا کہ میں اڑتا ہوا یمن کے ملک میں جا پہنچا تھا جہاں کی حکومت ملکہ بلقیس کے ہاتھ میں ہے، خدا نے اسے سب کچھ دے رکھا ہے، اس کا تخت بہت قیمتی اور شاندار ہے، لیکن شیطان نے اس کو گمراہ کررکھا ہے، وہ خدائے واحد کے بجائے آفتاب کی پرستش کرتی ہے۔ سلیمان Alaihis Salam نے ہُدہُد کے ذریعے ایک خط ارسال فرمایا، جس کامضمون یہ تھا کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی کی کوشش مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ خط پہنچنےپر ملکہ نے اپنےوزیروں اور مشیروں سے مشاورت کی، اور بہت سے تحفے تحائف حضرت سلیمان Alaihis Salam کی خدمت میں بھیجے۔ مگر حضرت سلیمان Alaihis Salam نے تحائف واپس کر دیے اور اسے پیغام بھیجا کہ اگر فرمانبرداری نہ کی تو لشکر بھیجا جائے گاجس کے خوف سے ملکہ نے خود حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ حضرت سلیمان Alaihis Salam کے حکم پر دربار میں موجود آپ Alaihis Salam کے ایک امّتی نے آنکھ جھپکنے سے پہلےاس ملکہ کے تخت کوحاضر کر دیا۔ تخت دیکھ کر ملکہ حیران ہوئی اور اس نے حضرت سلیمان Alaihis Salam کے پیغمبرانہ جلال کو پہچانا اور دینِ حق قبول کر لیا۔ 15 یہ واقعہ قرآن کریم میں تفصیل سے مذکور ہے۔ 16

بیت المقدس کی تعمیر

تورات کے مطابق، سلیمان Alaihis Salam نے اپنے دورِ حکومت کے چوتھے سال مسجدِ بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ 17 تاہم، یہ تعمیر بالکل ابتدا سے نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد حضرت یعقوب Alaihis Salam نےڈالی تھی جس کی وجہ سے بیت المقدس کی آبادی وجود میں آئی، پھر عرصہ دراز کے بعد سلیمان Alaihis Salam کے حکم پر مسجد اورشہر کی تعمیر کی تجدید کی گئی، اور جنات کی تسخیر کی وجہ سے بے نظیر اور شاندار تعمیر عالم وجود میں آئی جو آج تک لوگوں کےلیے باعثِ حیرت ہے۔ 18

حضرت سلیمان Alaihis Salam کا وصال

یہ تعمیر اپنے آخری مراحل میں تھی کہ سلیمان Alaihis Salam کا وقتِ وفات آ پہنچا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے:

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ1419
پھر جب ہم نے اس (سلیمان ) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ Alaihis Salam کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے۔

حضرت ابن عباس Radi Allah Anhuma روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سلیمان Alaihis Salam جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ان کے سامنے ایک درخت اُ گتا تھا۔ آپ Alaihis Salam اس کا نام اور مقصد پوچھتے اور اپنے پاس لکھ لیتے۔ ایک دن آپ Alaihis Salam نے نماز پڑھنے کے بعد درخت سے اس کا مقصد پوچھا، درخت نےبتایا کہ میں مسجدِ بیت المقدس کی بربادی کےلیے اگایا گیا ہوں۔ سلیمان Alaihis Salam سمجھ گئے کے اس کا اشارہ آپ Alaihis Salam کے وصال کی طرف ہے چناچہ آپ Alaihis Salam نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! میری موت جنات پر مخفی رکھنا، تاکہ انسان جان لیں کہ جن غیب نہیں جانتے۔ چنانچہ آپ Alaihis Salam نے عصا بنایا، اس پر ٹیک لگائی اور اسی حالت میں وفات پاگئے، جبکہ جنات یہ سمجھتے رہے کہ آپ Alaihis Salam زندہ ہیں اور اپنے کام میں لگے رہے۔ ایک سال تک دیمک آپ Alaihis Salam کا عصا کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گیا، اور آپ Alaihis Salam گر پڑے، تب جنات پر حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے تو اتنی مدت رسوا کن محنت میں مبتلا نہ رہتے۔ 20 تورات کے مطابق، سلیمان Alaihis Salam نے یروشلم میں تمام بنی اسرائیل پر 40 برس حکمرانی کی۔ اس کے بعد وہ اپنے باپ دادا کے پاس چلے گئے، اور اپنے باپ داؤد Alaihis Salam کے شہر میں دفن کیے گئے۔ 21 تاریخی روایات کے مطابق آپ Alaihis Salam کی قبر مبارک بیت المقدس میں واقع ہے۔ 22

image
حضرت سلیمان علیہ السلام کا مزار مبارک

اللہ تعالیٰ نےحضرت سلیمان Alaihis Salam کو بعض ایسی خصوصیات وامتیازات سے نوازاتھا جو ان کی زندگی کا طرّۂ امتیاز بنیں۔ چنانچہ آپ Alaihis Salam چرند وپرند کی بولیاں ناطق انسان کی گفتگو کی طرح سمجھ لیتے تھے۔ 23 ہوا آپ Alaihis Salam کے زیرِ فرمان کردی گئی تھی۔ 24 اللہ تعالیٰ نے جنات آپ Alaihis Salam کے لیے مسخر کردیے تھے۔ 25 اسی طرح شیاطین آپ Alaihis Salam کے حکم کے تابع تھے۔ 26 اس کے علاوہ حیوانات وپرندے بھی آپ Alaihis Salam کے حکم کے ماتحت تھے۔ 27 اللہ تعالی نے آپ Alaihis Salam کوعلم و حکمت اور بادشاہت وحکومت دونوں عطا کیے تھے۔ 28 بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ Alaihis Salam کو ایسی حکومت عطا فرمائی تھی جو نہ آپ Alaihis Salam سے پہلے کسی کو دی گئی اور نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ 29


  • 1  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة: دار الثقافة، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 481
  • 2  أبو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري، التيجان في ملوك حمير، مطبوعۃ: مركز الدراسات والأبحاث اليمنية، صنعاء، اليمن، 1347ھ، ص: 162
  • 3  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-2، مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 68
  • 4  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول 4: 29-31 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 320)
  • 5  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول1: 30 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 315)
  • 6  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول1: 53 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 316)
  • 7  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول2 : 10-12 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 316)
  • 8  يحيى بن سلام بن أبي ثعلبة التيمي، تفسير يحيى بن سلام، ج-2، مطبوعة: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، 2004م، ص: 536
  • 9  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول3: 1 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 318)
  • 10  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش15: 18 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 13)
  • 11  مجموعة الأساتذة اللاهوتيين، قاموس الكتاب المقدس، مطبوعة: دار الثقافة، القاهرة، مصر، د۔ ت۔ ط، ص: 481
  • 12  القرآن، سورة صٓ 38: 35
  • 13  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول3: 12-13 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 318)
  • 14  القرآن، سورة النمل 27: 15-17
  • 15  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-2، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 288 - 296
  • 16  القرآن، سورة النمل 27: 20-44
  • 17  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول 6: 1 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 321)
  • 18  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-2، مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 74
  • 19  القرآن، سورة سبأ 34: 14
  • 20  أبو بكر أحمد بن عمرو العتكي المعروف بالبزار، مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار، حديث: 5060، ج1-1، مطبوعة: مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة، السعودية، 2009م، ص: 270
  • 21  کتابِ مُقدس، سفر سلاطین اول11: 42-43 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 330)
  • 22  أبو اليمن عبد الرحمن بن محمد العليمي، الأنس الجليل بتاريخ القدس والخليل، ج1-، مطبوعة: مكتبة دنديس، عمان، الأردن، د۔ ت۔ ط، ص: 145
  • 23  القرآن، سورة النمل 27: 16
  • 24  القرآن، سورة الأنبياء 21: 81
  • 25  القرآن، سورة سبأ 34: 12
  • 26  القرآن، سورة الأنبياء 21: 82
  • 27  القرآن، سورة النمل 27: 20
  • 28  القرآن، سورة الأنبياء 21: 79
  • 29  القرآن، سورة ص 38: 35