سلیمان عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے امن وسلامتی والا ۔ 1 حضرت سلیمان
اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اورحضرت داؤد
کے فرزند تھے۔ آپ
کا نسب سلیمان بن داؤد بن ايشا بن حصرون بن عموم بن ناہب بن لاوی بن یہوداہ بن يعقوب بن اسحاق بن ابراہیم
تھا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے آپ
میں ذکاوت اور فصل مقدمات میں اصابت رائے کا کمال شروع ہی سے ودیعت کر دیا تھا۔ 3 اسفارِ تورات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان
کو ریت کے ذرّوں کی کثرت کی مانند حکمت، شعور اور قوتِ امتیاز عطا فرمائی تھی۔ آپ
ہی کو اپنے دور میں سب سے زیادہ عقلمند اور سمجھدار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ 4 یہی وجہ ہے کہ حضرت داؤد
نے آپ
کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ 5 حضرت داؤد
کی زندگی کے آخری ایام میں ادونیا بن داؤد نے تخت بادشاہت پر قبضے کی کوشش کی، مگرحضرت سلیمان
کی طاقت وقوت سے خوفزدہ ہو کر اس نے بھی سرِ تسلیم خم کردیا۔ 6 حضرت داؤد
نے 40 برس تک عدل و انصاف کے تاج کو سر پر سجائے رکھا۔ جب وہ دنیا سے رحلت فرما گئے تو تختِ داؤد پر ان کے فرزندِارجمند سلیمان کی حکومت کے سنہرے باب کا آغاز ہوا۔ 7
کی زندگیحضرت سلیمان
ایک ہی وقت میں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ آپ
کو اپنے والد داؤد
سے وراثت میں نبوت اور بادشاہت دونوں چیزیں ملی تھیں۔ 8 حضرت سلیمان
نے تخت اور حکومت کو مضبوط کرنے کے بعد مصر کے بادشاہ، فرعون کے ساتھ اتحاد کیا اور اس کی بیٹی سےشادی کر لی۔ 9 علمائے یہود کے نزدیک جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم
کے ساتھ فرمایا تھا کہ میں دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک کی زمین پر تیری نسل کی حکومت قائم کروں گا، 10 یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان
کے دور میں پورا فرمایا۔ 11 قرآن کریم کے مطابق، سلیمان
نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو۔ 12 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان
کی دعا قبول فرمائی اور آپ
سے فرمایا: میں تجھے ایسا عقلمند اور سمجھنے والا دل عطا کروں گا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تجھ سےپہلے ہوا نہ کوئی تجھ سا تیرے بعد برپا ہوگا۔ علاوہ ازیں میں تجھے وہ بھی عطا کروں گا جو تو نے نہیں مانگایعنی دولت اور عزت، ایسا کہ تیرے ہم عصر بادشاہوں میں کوئی بھی تیرے برابر نہ ہوگا۔ 13 اسی لیے آپ
کی حکومت صرف انسانوں پر ہی نہ تھی بلکہ جنات، شیاطین اور دیگر مخلوقات بھی آپ
کے تابع تھے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ 15 وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ وَقَالَ يَاأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ 16وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ 1714
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان () کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔ اور سلیمان (
)، داؤد (
) کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی (بھی) سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ بیشک یہ (اللہ کا) واضح فضل ہے۔ اور سلیمان (
) کے لیے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کیے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھے۔
حضرت سلیمان
کے دورِ حکومت میں یمن کے علاقہ میں بلقیس نامی خاتون قوم سبأ کی ملکہ تھی۔ ایک دن حضرت سلیمان
نے اپنے لشکر کا جائز ہ لیا، جس میں تمام جن وانس، وچرندو پرند اپنی اپنی جگہوں پر موجود تھے، مگر ہُدہُد غیر حاضر تھا۔ آپ
نے فرمایا کہ اگر اس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتائی تو سخت سزا پائے گا۔ اس دوران ہُدہُد آیا اور بتایا کہ میں اڑتا ہوا یمن کے ملک میں جا پہنچا تھا جہاں کی حکومت ملکہ بلقیس کے ہاتھ میں ہے، خدا نے اسے سب کچھ دے رکھا ہے، اس کا تخت بہت قیمتی اور شاندار ہے، لیکن شیطان نے اس کو گمراہ کررکھا ہے، وہ خدائے واحد کے بجائے آفتاب کی پرستش کرتی ہے۔ سلیمان
نے ہُدہُد کے ذریعے ایک خط ارسال فرمایا، جس کامضمون یہ تھا کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی کی کوشش مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ خط پہنچنےپر ملکہ نے اپنےوزیروں اور مشیروں سے مشاورت کی، اور بہت سے تحفے تحائف حضرت سلیمان
کی خدمت میں بھیجے۔ مگر حضرت سلیمان
نے تحائف واپس کر دیے اور اسے پیغام بھیجا کہ اگر فرمانبرداری نہ کی تو لشکر بھیجا جائے گاجس کے خوف سے ملکہ نے خود حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ حضرت سلیمان
کے حکم پر دربار میں موجود آپ
کے ایک امّتی نے آنکھ جھپکنے سے پہلےاس ملکہ کے تخت کوحاضر کر دیا۔ تخت دیکھ کر ملکہ حیران ہوئی اور اس نے حضرت سلیمان
کے پیغمبرانہ جلال کو پہچانا اور دینِ حق قبول کر لیا۔ 15 یہ واقعہ قرآن کریم میں تفصیل سے مذکور ہے۔ 16
تورات کے مطابق، سلیمان
نے اپنے دورِ حکومت کے چوتھے سال مسجدِ بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ 17 تاہم، یہ تعمیر بالکل ابتدا سے نہیں تھی بلکہ اس کی بنیاد حضرت یعقوب
نےڈالی تھی جس کی وجہ سے بیت المقدس کی آبادی وجود میں آئی، پھر عرصہ دراز کے بعد سلیمان
کے حکم پر مسجد اورشہر کی تعمیر کی تجدید کی گئی، اور جنات کی تسخیر کی وجہ سے بے نظیر اور شاندار تعمیر عالم وجود میں آئی جو آج تک لوگوں کےلیے باعثِ حیرت ہے۔ 18
کا وصالیہ تعمیر اپنے آخری مراحل میں تھی کہ سلیمان
کا وقتِ وفات آ پہنچا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے:
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ1419
پھر جب ہم نے اس (سلیمان ) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپکا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے۔
حضرت ابن عباس
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ
نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سلیمان
جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ان کے سامنے ایک درخت اُ گتا تھا۔ آپ
اس کا نام اور مقصد پوچھتے اور اپنے پاس لکھ لیتے۔ ایک دن آپ
نے نماز پڑھنے کے بعد درخت سے اس کا مقصد پوچھا، درخت نےبتایا کہ میں مسجدِ بیت المقدس کی بربادی کےلیے اگایا گیا ہوں۔ سلیمان
سمجھ گئے کے اس کا اشارہ آپ
کے وصال کی طرف ہے چناچہ آپ
نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! میری موت جنات پر مخفی رکھنا، تاکہ انسان جان لیں کہ جن غیب نہیں جانتے۔ چنانچہ آپ
نے عصا بنایا، اس پر ٹیک لگائی اور اسی حالت میں وفات پاگئے، جبکہ جنات یہ سمجھتے رہے کہ آپ
زندہ ہیں اور اپنے کام میں لگے رہے۔ ایک سال تک دیمک آپ
کا عصا کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گیا، اور آپ
گر پڑے، تب جنات پر حقیقت ظاہر ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے تو اتنی مدت رسوا کن محنت میں مبتلا نہ رہتے۔ 20 تورات کے مطابق، سلیمان
نے یروشلم میں تمام بنی اسرائیل پر 40 برس حکمرانی کی۔ اس کے بعد وہ اپنے باپ دادا کے پاس چلے گئے، اور اپنے باپ داؤد
کے شہر میں دفن کیے گئے۔ 21 تاریخی روایات کے مطابق آپ
کی قبر مبارک بیت المقدس میں واقع ہے۔ 22
حضرت سلیمان علیہ السلام کا مزار مبارک
اللہ تعالیٰ نےحضرت سلیمان
کو بعض ایسی خصوصیات وامتیازات سے نوازاتھا جو ان کی زندگی کا طرّۂ امتیاز بنیں۔ چنانچہ آپ
چرند وپرند کی بولیاں ناطق انسان کی گفتگو کی طرح سمجھ لیتے تھے۔ 23 ہوا آپ
کے زیرِ فرمان کردی گئی تھی۔ 24 اللہ تعالیٰ نے جنات آپ
کے لیے مسخر کردیے تھے۔ 25 اسی طرح شیاطین آپ
کے حکم کے تابع تھے۔ 26 اس کے علاوہ حیوانات وپرندے بھی آپ
کے حکم کے ماتحت تھے۔ 27 اللہ تعالی نے آپ
کوعلم و حکمت اور بادشاہت وحکومت دونوں عطا کیے تھے۔ 28 بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ
کو ایسی حکومت عطا فرمائی تھی جو نہ آپ
سے پہلے کسی کو دی گئی اور نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ 29